انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 59

انوار العلوم جلد ۵۹ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز ( تحریر فرموده جون ۱۹۲۵ء) (1) چونکہ ان دنوں حج بیت اللہ کے جواز یا عدم جواز کا سوال پیش ہے۔ اور مختلف لوگ اس کے متعلق اپنی آراء شائع کر رہے ہیں۔ اور ہندوستان کے مسلمان سیاسی لیڈروں نے تو زور دے کر اس سال حج کے لئے جہاز روانہ کرائے ہیں۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں احمد یہ جماعت کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے اپنی رائے ظاہر کردوں تا ہماری جماعت کے لوگ بے فائدہ تکلیف اور دکھ سے بچ جائیں۔ اور تاجو اور لوگ مجھ پر حسن ظنی رکھتے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ایک مخلصانہ مشورہ سے محروم نہ رہ جائیں۔ میں اپنے تمام دوستوں کو شروع مضمون میں ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس سال حج کرنا فتنہ کا موجب ہے۔ اور شریعت کے حکم کے ماتحت اس سال حج کے ارادہ میں التواء کرنا بہتر ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حج بہر صورت اور ہر حالت میں فرض نہیں ہے بلکہ اسی وقت اور اسی پر فرض ہوتا ہے جب اور جس شخص میں بعض شرائط پائی جاویں۔ اور انہی شرائط میں سے ایک امن کا وجود بھی ہے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ حج اس پر فرض ہے کہ جس میں وہاں پہنچنے کی استطاعت ہو ۔ یعنی آمد و رفت کا کرایہ ہو گھر والوں کا خرچ ہو ، راستہ میں امن ہو اس کی صحبت اچھی ہو اور سفر کی تکالیف کو برداشت کر سکتا ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور چونکہ اس سال مکہ مکرمہ کی راہ مخدوش ہے اس لئے میرے نزدیک ہندوستان کے لوگوں کے لئے اور ان دیگر ممالک کے لوگوں