انوارالعلوم (جلد 9) — Page ix
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم کی نویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی کی ۱۳ دسمبر ۱۹۲۴ء سے لے ستمبر۱۹۲۷ء تک کی تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔ (1) افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کیلئے دلی کیفیت کا اظہار ۱۳ دسمبر ۱۹۲۴ء کو حضور نے مسجد اقصیٰ میں ایک پُر اثر اور درد انگیز خطاب فرمایا۔ حضرت سیدہ امتہ الحئی صاحبہ کی وفات پر غیر معمولی رنج اور صدمہ کی وجہ بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مرحومہ کے وجود سے اس سکیم پر بہت اثر پڑا ہے جو میں نے یورپ میں تبلیغ و اشاعت اور سلسلہ کی مستورات کی ترقی اور تربیت کیلئے تیار کی تھی۔ بعض لوگوں نے حضور کے صدمہ اور غم کو دیکھتے ہوئے اسے ایک غیر معمولی بات سمجھا۔ تاہم حضور نے کسی غلط فہمی اور وہم کے ازالہ کیلئے اپنی بعض مثالیں پیش فرمائیں اور بتایا کہ باوجودیکہ آپ پر آپ پر غم کی کیفیات تھیں تاہم جذبات پر پورا را قابو تھا۔ فرمایا کہ جماعت کے غموں اور خوشیوں میں شامل ہونا میرا فرض ہے۔ غم کرنا اسلام کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ حضور ملی امر کا اپنے چچا کی وفات پر غم ، حضرت خدیجہ اللہ کو ساری عمر یاد کرتے رہنا، صحابہ کی شہادت پر رفت و غم۔ اسی طرح ایک غزوہ میں جب چار علم بردار صحابہ شہید ہوئے اور بالآخر حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں فتح ہوئی اس کیفیت پر حضور ملی پر غم و رفت کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آنسوؤں سے رونا انبیاء کی سنت ہے ۔ حضرت یعقوب کی مثال سامنے ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور صحابہ کی زندگیوں سے آپ نے