انوارالعلوم (جلد 9) — Page 53
انوار العلوم جلد 9 ۵۳ جماعت احمد یہ کے عقہ کہ ہمارا یہ یقین اور وثوق ہے کہ انسانی روح ترقی کرتے کرتے ایسے درجے کو رؤیت الہی حاصل کرے گی جب کہ اس کی طاقتیں موجودہ طاقتوں کی نسبت اتنی زیادہ ہوں گی کہ اسے ایک نیا وجو د کہا جا سکتا ہے ۔ لیکن چونکہ وہ اسی روح کی نشو و نما ہو گی اس لئے اس کا نام یہی ہو گا جو اس کو اب اس دنیا میں حاصل ہے۔ اس وقت روح اس قابل ہو جائے گی کہ اللہ کے ایسے جلوے کو دیکھے اور ایسی رؤیت اس کو حاصل ہو کہ باوجود اس کے کہ وہ حقیقی رؤیت نہ ہو گی مگر پھر بھی اس دنیا کے مقابلہ میں رؤیت اور یہ دنیا اس کے مقابلہ میں حجاب کہلانے کی مستحق ہوگی۔ ہمیں لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں نبوت اور کلام کا سلسلہ جاری ہے اللہ تعالیٰ نے صرف یہودیوں میں نبوت کا سلسلہ مخصوص کیا ہوا ہے اور باوجود قرآن شریف کی متعدد آیات کی موجودگی کے وہ باقی تمام قوموں کو خدا اور اس کے نبیوں سے محروم رکھتے ہیں۔ پھر ہمیں ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ان کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے بعد ہر قسم کے کلام کو روک دیا ہے حالانکہ کلام شریعت کے سوا کسی قسم کا کلام رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کلام شریعت کے کامل ہو جانے سے کلام ہدایت اور کلام تفسیر کی ضرورت معدوم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اگر کلام شریعت آسکتا ہے تو پھر کسی پچھلے کال ام شریعت کے مخفی ہو جانے میں چنداں حرج نہیں لیکن اگر کلام شریعت آنا بند ہو جائے تو اس کی تفسیر کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہدایت کی کوئی راہ نہیں رہتی۔ اگر کہا جائے کہ انسان تفسیر کرتے ہیں تو ان کی تفسیروں میں اتنا اختلاف ہوتا ہے کہ ایک ایک تفسیر میں ہیں ہیں متضاد خیالات بیان کئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ کلام الہی تو یقین اور وثوق کے لئے آتا ہے امور مذہبی میں بھی اگر شک اور شبہ ہی باقی رہا تو نجات کہاں سے حاصل ہو گی۔ پھر ہمیں لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس امت محمدیہ سے مامور وقت اصلاح کے لئے موسوی سلسلہ کے مسیح کو آسمان سے نازل کیا جائے گا اور ہم کہتے ہیں کہ باہر سے کسی آدمی کے منگوانے میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے جب کہ آپ ہی کے شاگر داور آپ ہی سے فیض یافتہ انسان امت کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں تو باہر سے کسی آدمی کے لانے کی کیا ضرورت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اب کسی ایسے آدمی کے