انوارالعلوم (جلد 9) — Page 50
انوار العلوم جلد و جماعت احمدیہ کے عقائد کو حقیقی راستہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے خواہ وہ اس کلام کے حامل کے ذریعہ سے دنیا کو بتایا گیا ہو اور خواہ وہ اس سے پہلے کسی حامل کلام کے ذریعہ دنیا کو بتایا گیا ہو ۔ اور ایک قسم الہام کی یہ ہے کہ اس کی غرض وثوق اور یقین دلانا ہوتی ہے۔ پھر ایک قسم الهام کی یہ ہے کہ اس میں اظہار محبت مد نظر ہوتا ہے ۔ اور ا رہوتا ہے۔ اور ایک قسم الہام کی یہ ہے کہ اس میں تنبیہہ مد نظر ہوتی ہے اور اس قسم کا کلام کافروں اور مشرکوں پر بھی نازل ہو جاتا ہے ۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ کلام شریعت اس دنیا کے لئے قرآن کریم پر ختم ہو گیا ہے ۔ ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ حاملین شریعت کی آخری کڑی محمد رسول کریم اللل رسول الله الی ہیں اور قرآن کریم کے بعد کوئی شرعی کتاب خدا کی طرف سے نازل نہیں ہو سکتی اور نہ رسول کریم ال کے بعد کوئی ایسا نبی مبعوث ہو سکتا ہے جو کوئی نیا حکم شریعت لائے یا کسی مٹے ہوئے حکم کو نئے طور پر دنیا میں قائم کرے ۔ یعنی نہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ شریعت میں کوئی زیادتی کرے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ پچھلے کلام کا کوئی حکم جو منسوخ ہو چکا ہو کسی نئے نبی کے ذریعہ سے قائم ہو ۔ انبیاء علیهم پھر ہم یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالی و متافو معنا دنیا کی ہدایت کے لئے بعض هم السلام انسانوں کو جو اس کے کلام کے حامل ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں یں اور جو لوگوں کے لئے نمونہ بنے کی طاقت رکھتے ہیں اپنے کلام سے مشرف کر کے دنیا کی ہدایت کے لئے مامور کرتا رہا ہے جو کہ کبھی تو کلام شریعت لے کر دنیا میں آئے ہیں اور کبھی صرف ہدایت ہی لے کر آتے ہیں خود ان پر کوئی ایسا کلام نازل نہیں ہوتا جس میں کوئی نیا حکم ہو ۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ دوسری قسم کے نبی جو شریعت نہیں لاتے اور صرف پہلی غیر شرعی نبی شریعت کی تفسیر اور تشریح کرنے کے لئے نازل ہوتے ہیں وہ ایسے زمانہ میں نازل ہوتے ہیں جب کہ اختلافات روحانیت سے بعد خدا تعالی سے دوری، تقوی کی کمی اور نیکی کا فقدان کلام شریعت کے صحیح معنے کرنے کی قابلیت اس وقت کے لوگوں سے مٹا دیتا ہے اور اگر کسی امر میں لوگ معنے دریافت بھی کر لیں تو اس قدر اختلاف آراء ہو چکا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو یقین اور تسلی نہیں ہو سکتی کہ یہ معنے درست ہیں۔ اور جب کہ خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت لوگوں کی نظر سے بالکل مخفی ہو جاتی ہے اس کا وجود قصوں اور روایتوں میں محدود ہو جاتا ہے اور اس کے تازہ بتازہ جلوے دنیا میں نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا نبی بھیجا