انوارالعلوم (جلد 9) — Page 33
انوار العلوم جلد 9 ٣٣ من انصاری الی الله سے بہت زیادہ اہم انشاء اللہ نکلے گا اور مخالفوں کی آنکھوں کو خیرہ اور مومنوں کے دلوں کو مسرورو خوش کرے گا مگر اب تک بھی جو نتیجہ نکل چکا ہے دوست تو دوست دشمن بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں خصوصاً شام اور انگلستان میں سلسلہ احمدیہ کی محبت کا بیج اس قدر سعید روحوں میں بو دیا گیا ہے کہ انسانی عقل اس کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتی ہے اور خدا کی قدرت نمائی پر ششدر اس سفر میں اور اس کے بعد جو جو تکالیف مجھ کو پہنچی ہیں اور جو تکالیف دوسرے ممبران وند کو پہنچی ہیں وہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہیں ان کے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔ ہاں میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ وہ دلوں کو ہلا دینے والی اور کمروں کو جھکا دینے والی ہیں خصوصاً وہ تکالیف جو مجھے اس سفر میں یا اس کے معا بعد پیش آتی ہیں اور جن کی مجھے اللہ تعالی نے قبل از وقت اطلاع دے دی تھی وہ ایسی ہیں کہ انہوں نے میری ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی معرفت کی امید اور اس کے دین کا کام میرے سامنے نہ ہو تا تو اس دنیا میں میری دلچسپی کا سامان بہت ہی کم باقی رہ گیا ہے۔ میری صحت متواتر بیماریوں سے جو تبلیغ ولایت کے متعلق تصانیف اور دورانِ سفر کے متواتر کام کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں بالکل ٹوٹ چکی ہے اور غموں اور صدموں نے میرے جسم کو زکریا علیہ السلام کی طرح کھوکھلا کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر کبھی بھی میرا جسم راحت اور آرام کا مستحق اور میرا دل اطمینان کا محتاج تھا تو وہ یہ وقت ہے لیکن صحت کی کمزوری، جانی اور مالی ابتلاؤں کے باوجود بجائے آرام ملنے کے میری جان اور بھی زیادہ بوجھوں کے نیچے دبی جا رہی ہے کیونکہ سفر مغرب کی وجہ سے اور اشاعت کتب کی غرض سے جو روپیہ قرض لیا گیا تھا اس کی ادائیگی کا وقت سر پر ہے بلکہ شروع ہو چکا ہے اور بیت المال کا یہ حال ہے کہ قرضہ کی ادائیگی تو الگ رہی کارکنوں کی تنخواہیں ہی تین تین ماہ کی واجب الاداء ہیں ۔ پس یہ غم مجھ پر مزید برآں پڑ گیا ہے کہ قرضہ کے ادا نہ ہونے کی صورت میں ہم پر نادہندگی اور وعدہ خلافی کا الزام نہ آئے۔ اور اسی طرح وہ لوگ جو باہر کی اچھی ملازمتوں کو ترک کر کے قادیان میں خدمت دین کے لئے بیٹھے ہیں ان کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھنا اور ان کو ان کی ان تھک خدمت کے بعد قوت لایموت کے لئے روپیہ بھی نہ دے سکنا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہے۔ تیسرا صدمہ مجھے یہ ہے کہ اس قدر تکالیف برداشت کر کے جو سفر کیا گیا تھا اس کے اثرات کو دیر پا اور وسیع کرنے کے لئے ضروری تھا کہ فوراً سفر کے تجربہ کے ماتحت شام اور انگلستان میں تبلیغ کا راستہ کھولا جاتا مگر مالی تنگی کی وجہ سے اس کام کو شروع نہیں کیا جا سکتا اور سب