انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 631

انوار العلوم جلد 9 ۶۳۱ فیصلہ در تمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض قانون پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ کہ وہ جرم کو نہیں روک سکتا بلکہ صرف مجرم کو سزا دیتا ہے۔ صرف اور خود تبلیغ اسلام اور شریعت کے قیام کے کام پر اس طرح زور دینا چاہئے کہ دل محبت رسول سے اسلام اور بھر جائیں اور کوئی شخص آپ کو بڑا سمجھنے والا باقی ہی نہ رہے۔ مذکورہ بالا اہم فرض کی طرف توجہ دلانے کے بعد میں عزت رسول کے تحفظ کے بارہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ گو جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں عزت رسول کریم کا تحفظ خود ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری کوششوں پر منحصر ہے۔ لیکن پھر بھی چونکہ بعض لوگ نصیحت کو نہیں مانتے اور جرم کے ارتکاب پر دلیر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو روکنے کے لئے قانون کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہمیں مقدمہ ورتمان کے فیصلہ پر بے فکر نہیں ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ گو اس فیصلہ نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ دفعہ ۱۵۳۔ الف میں ان لوگوں کی سزا کے لئے بھی قانون مہیا کر دیا گیا ہے کہ جو مقدس ہستیوں کو گالیاں دے کر ان کے پیروؤں کا دل دُکھاتے ہیں۔ لیکن اس قانون میں ابھی بہت سی خامیاں ہیں کہ جب تک وہ دُور نہ ہوں گی ملک میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہمت کی کمر کس کر کھڑے ہو جائیں۔ اور اس وقت تک آرام نہ کریں: ب جب تک کہ وہ خامیاں دور ہے ہو جا جائیں۔ اور ایک مکمل قانون بن جائے جس کے ڈر سے وہ شریر الطبع لوگ جو دلیل اور بڑہان کی قدر نہیں کرتے اپنے خبث باطن کے اظہار سے رُکے رہیں۔ اور ان آسمان روحانیت کے ماہتابوں پر خاک ڈالنے کی کوشش نہ کریں جن کو خدا تعالٰی نے اپنے ہاتھوں سے پاک کیا اور جن کے کندھوں پر اپنے تقدس کی چادر اس نے ڈال دی۔ ہمارا فرض ہے کہ ایک آواز ہو کر گورنمنٹ کو توجہ دلائیں کہ وہ قانون کو ا کو ایسا مکمل کر دے کہ آئندہ اس کی کمزوری کی وجہ سے ملک میں فتنہ پڑنے کا اندیشہ نہ رہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ خود اس کام کو کرنا نہیں چاہتی۔ (گورنمنٹ نے جس ہمدردی سے ورتمان اور راجپال کے مقدموں میں کام کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ وہ پورے طور پر ہمارے جذبات سے ہمدردی را رکھتی ہے اور اس کی ان خدمات کا شکریہ نہ ادا کرنا اول درجہ کی اخلاقی کمزوری اور کمینگی ہو گی۔ اور میں اس اشتہار کے ذریعہ سے بھی اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے گورنمنٹ پنجاب اور صوبہ سرحدی کا اور خصوصاً سریلی کا اس ہمدردی پر شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں سے ظاہر کی اور یقینا کہہ سکتا ہوں کہ ان کی حکمت عملی نے ملک کو خطرناک فسادات میں پڑنے سے بچانے میں بہت بڑی مدد دی ہے)۔ میرا یہ مطلب ہے کہ چونکہ یہ قانون مختلف مذاہب کے لوگوں سے تعلق رکھتا