انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 623

انوار العلوم جلد ؟ ۶۲۳ موجودہ بے چینی کے چند شاخسانے سر جیفرے کو مخلصانہ مشورہ دینے کے بعد میں ان صاحبان کو بھی جنہوں نے سرجیفرے کی تقریر کے مذکورہ بالا حصہ پر سختی سے اعتراض کئے ہیں کہتا ہوں کہ کیا سخت زبانی سے دنیا میں کبھی بھی نفع ہوا ہے۔ الفاظ کی سختی سے مقصد کی بلندی کبھی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ الفاظ کی سختی سے ہمدردوں کی ہمدردی میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمیں اسلام نرمی کا حکم دیتا ہے اور ہمیں اپنے جوشوں کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے اور ہر ایک بات کو دلیل سے ثابت کرنا چاہئے کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اس وقت تک کسی ایک شخص نے بھی گورنمنٹ کے اس اعتراض کو جو اس نے چوہدری افضل حق صاحب کے لہجہ کے متعلق کیا ہے ، صحیح طور پر دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اصل جواب یہ تھا کہ وہ تقریر لکھ دی جاتی جو چوہدری افضل حق صاحب کر رہے تھے اور بتایا جاتا کہ اس تقریر کے فلاں حصہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صاحب آئے تھے۔ اس طریق سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ جاتا کہ گورنمنٹ کا نکالا ہوا نتیجہ غلط ہے یا درست ۔ لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا اور پھر جب کہ ایسا نہیں کیا گیا تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سر جیفرے مانٹ مورنسی مجبور تھے کہ اس رپورٹ پر اعتبار کرتے جو ان کو بھیجی گئی تھی۔ اور گو ہم ان کے رویہ کو غلط کہیں مگر ہم ان کی طرف غلط بیانی کا گندہ الزام لگانے کا ہر گز حق نہیں رکھتے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرجیفرے جو کچھ کہہ رہے تھے اپنے نزدیک صحیح سمجھ کر کہہ رہے تھے ، ان کے الفاظ پر مجھے اعتراض ہے۔ ان کے اس واقعہ کی طرف کو نسل میں اشارہ کرنے پر بھی مجھے اعتراض ہے۔ مگر یہ بات ہر گز ثابت نہیں بلکہ اس کا امکان بھی ثابت نہیں کہ وہ یہ بات اپنے پاس سے بنا کر کہہ رہے تھے ۔ وہ ان رپورٹوں کے مطابق جو انہیں پہنچیں، تقریر کر رہے تھے۔ اور باوجود اس کے کہ ہم ان رپورٹوں کو غلط کہیں ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی طرف جھوٹ یا بد نیتی کو منسوب کریں۔ اس طرح ہر ایک بات پر نیت اور راستبازی پر حملہ کر دینے سے ملک میں ہر گز امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اور یہ طریق خود ہمیں بد نام اور ذلیل کر دیتا ہے۔ اور ہماری کم حوصلگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اے بھائیو! ادب اور احترام کسی کے لئے ذلت کا موجب نہیں ہو تا بلکہ ہماری عزت نفس پر دلالت کرتا ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ادب اور احترام کا خیال رکھنا چاہئے۔ علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ سرجیفرے آج پہلی دفعہ ہندوستان نہیں آئے انہوں نے اپنی عمر اس جگہ گزاری ہے۔ اور سب لوگ ان کے اخلاق اور ان کے رویہ سے