انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 616

انوار العلوم جلد ؟ 414 سرحد سے ہندؤوں کا اخراج خیال سے قتل و غارت سے پر ہیز کریں۔ چنانچہ انہوں نے اقرار کیا۔ اور کیا ہندو صاحبان اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ وہ لوگ جو تھوڑے تھوڑے جوش پر قتل کر دیا کرتے تھے ، ان کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کے معاملہ میں اس قدر صبر سے کام لینا کوئی معمولی بات ہے اور کیا یہ قابل قدر تبدیلی نہیں؟ ہمارے آدمیوں نے مزید کوشش کی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی جگہ سے نکالا بھی نہ جائے اور بعض بااثر علماء نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لئے بھی کوشش کریں گے۔ اور اگر اس امر میں ان علماء کی کوششیں کامیاب ہو گئیں تو موجودہ ایجی ٹیشن کا یہ سب سے خوشگوار نتیجہ ہو گا اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ عالم اسلام کس طرح آنا فانا خوشگوار تبدیلی پیدا کر رہا ہے۔ میں ہندو اخبارات کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ بعض ہندؤوں نے اس موقع پر نہایت اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا ہے اور باوجود سرحد کے مخصوص حالات سے واقف ہونے کے اور وہاں پشت ہا پشت سے رہنے کے بجائے اس امر پر اظہار افسوس کرنے کے کہ بعض خبیث الطبع لوگوں نے پاکبازوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ میں اسلام کی ہتک کی ہے، اُلٹا ان لوگوں کے خیالات کی تائید کر کے سرحد کے باغیرت مسلمانوں کو اور جوش دلایا ۔ اگر بعض لوگ ایسا نہ کرتے تو شاید معاملات اس حد تک نہ پہنچتے جس حد تک کہ اب پہنچ گئے ہیں۔ بہر حال ہم اب بھی کوشش کر رہے ہیں اور سرحد کے خوانین سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہندؤوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا ایک اور موقع نہیں دیں گے۔ انہیں سب سے زیادہ چھوت چھات اور مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے اور ہندؤوں سے سودا نہ لینے کی طرف توجہ دلانی چاہئے اور اس کے نتیجہ میں اگر وہاں کے ہندو آپ ہی آپ کام نہ ہونے کے سبب سے اس ملک کو چھوڑ دیں تو اس کا الزام ان پر نہ ہو گا۔ لیکن انہیں چاہئے کہ خود ہندؤوں کو اپنے علاقہ سے نکل جانے کے لئے نہ کہیں۔ میں سرحد کے با اثر اصحاب کو اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ افغانستان، روس اور ہزارہ کی تجارت کروڑوں روپیہ کی ہے اور یہ سب کی سب ہندؤوں کے قبضہ میں ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ جلد سے جلد اس تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسلام کی مدد کریں۔ اس قدر روپیہ سالانہ ان کے ہاتھوں سے جاکر اسلام کی بیخ کنی کی کوششوں پر یا مسلمانوں کے کمزور کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ اپنی دکانیں کھولیں اور کم سے کم اسلامی ممالک کی تجارت تو اپنے ہاتھ میں لیں اور اگر وہ اس سال کوشش کر کے اس تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں تو یقینا اگلے سال اس کا اثر پنجاب کی تجارت پر پڑے گا اور پنجاب میں بھی مسلمانوں کی