انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 598

انوار العلوم جلد ؟ ۵۹۸ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ اس امر میں نے کی جو ہتک کی جاتی ہے، اس کا سد باب کریں اور آپ کی عزت کی حفاظت کا مقدس فرض جو ہم پر عائد ہے اس کو بجالائیں۔ اگر میرا یہ خیال درست ہے تو کیا پھر پہلی بات کی طرح یہ بھی سچ نہیں ہے کہ یہ ہتک ہندؤوں کی طرف سے کی جا رہی ہے نہ کہ گورنمنٹ کی طرف سے۔ پس ہمارا مقابلہ ہندؤوں سے ہے نہ کہ گورنمنٹ سے ۔ گورنمنٹ تو اس وقت حتی الوسع ہماری مدد پر کھڑی ہے اور ہمیں ان اخلاقی ذمہ داریوں کے ماتحت جو اسلام نے ہم پر عائد کی ہیں ، ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے نہ کہ ان کی مخالفت کرنی چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہائیکورٹ کے ایک حج کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہندؤوں کو اور بھی دلیری ہو گئی ہے اور انہوں نے پہلے سے بھی سخت حملے اسلام پر شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن پھر کیا یہ بھی درست نہیں کہ گورنمنٹ اس فیصلہ کو بدلوانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اور غیر معمولی ذرائع سے جلد سے جلد اس مفسدہ پردازی کا ازالہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور ہزایکسلینسی گورنر کور HIS EXCELLENCY( پنجاب نے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں نہایت پر زور الفاظ میں مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور ان گندے مصنفوں کے خلاف ناراضگی کا اظہار اور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ جب حالات یہ ہیں تو پھر کیا اخلاق کیا عقل اور کیا فوائد اسلام ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم سول نافرمانی کو جو ہندؤوں کے خلاف نہیں بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہے اختیار کریں اور کیا اس ذریعہ سے ہندو رسول کریم مسلم کو گالیاں دینے سے باز آجائیں گے ۔ مگر علاوہ اس کے کہ سول نافرمانی اسلام اور مسلمانوں کے فوائد کے خلاف ہے ہوں نافرمانی اس موقع پر اخلاق کے خلاف ہے، وہ اسلام اور مسلمانوں کے فوائد کے بھی خلاف ہے۔ رسول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار نہ ہوں۔ رسول نافرمانی دو غرضوں کیلئے ہو سکتی ہے ۔ چاہیں۔ ا۔ جب کہ ہم کوئی کام کرنا چاہیں جسے گورنمنٹ منع کرتی ہو ۔ ۲۔ جب کہ ہم گورنمنٹ کو کسی کام کے کرنے سے روکیں یا اس سے کوئی کام کروانا صورت اول میں اس قدر کافی ہوتا ہے کہ بہت سے آدمی اس کام کو کرنے لگیں کہ جس سے گورنمنٹ روکتی ہو۔ اگر گورنمنٹ ان کو روکے تو وہ نہ رکیں حتیٰ کہ گورنمنٹ مجبور