انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 590

انوار العلوم جلد 9 ۵۹۰ کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں ؟ انہیں اگر گورنمنٹ رکھنا چاہتی ہو تو انہیں فوراً مستقل کر دے۔ اور یا انہیں واپس کر کے ان کی جگہ دوسرے مسلمان حج مقرر کئے جائیں تا مسلمانوں کی بے چینی دور ہو اور چاہئے کہ اگلا چیف حج پنجاب کا مسلمان بیر سٹریج مقرر ہو۔ اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ پنجاب جس میں اکثر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں اس میں مسلمانوں کو پچیس فیصدی ملازمتیں بھی حاصل نہیں ہیں بلکہ بعض صیغوں میں تو ۱۰ فیصدی بھی مسلمان اعلیٰ ملازم نہیں ملیں گے۔ اس کا خطرناک اثر مسلمانوں کے تمدن اور ان کے حقوق کی حفاظت پر پڑتا ہے۔ پس جس قدر جلد ممکن ہو مسلمانوں کو کم سے کم نصف ملازمتیں دی جائیں تاکہ ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔ یہ محضر نامہ چھپ کر تیار ہے۔ میرے نزدیک اس پر کم سے کم پانچ چھ لاکھ مسلمانوں کے مرد ہوں یا عورتیں دستخط ہونے چاہئیں۔ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ حکومت ہند اور حکومت برطانیہ کے اوپر اثر کئے بغیر نہیں رہے گی اور یہ محضر نامہ بھی دستخطوں کی تکمیل کے بعد ایک وفد کے ذریعہ گورٹمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک بہت بڑا وفد جو سب فرقوں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا جب اسے پیش کرے گا تو گورنمنٹ اس متفقہ مطالبہ کو رد نہیں کر سکے گی کیونکہ ملک کا فائدہ اور گورنمنٹ کی مضبوطی بھی اس امر میں ہے کہ وہ ان مطالبات کو جلد سے جلد پورا کرے۔ جو لوگ اس محضر نامہ پر دستخط کرانے کی خدمت کو اپنے ذمہ لینا چاہیں وہ مجھے یا صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں تا ان کے نام مطبوعہ فارم بھجوا دیئے جائیں۔ اسی طرح میری یہ تجویز ہے کہ ۲۲ جولائی بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ پنجاب، دہلی اور سرحدی صوبہ کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں تمام فرقہ ہائے اسلامی کا ایک مشترکہ جلسہ کیا جائے جس میں اوپر کے امور کی تائید میں ریزولیوشن پاس کئے جائیں۔ اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ سے گورنمنٹ کو اسلامی حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حقیقی اصلاح کے کام کے ساتھ ساتھ ان تدابیر پر عمل شروع کیا جائے تو انشاء اللہ یقینا مسلمانوں کو کامیابی ہو گی۔ یہ کام اتنی بڑی محنت اور قربانی کو چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان ان میں کامیاب ہو جائیں تو دنیا سمجھ لے گی کہ اب ان کا مقابلہ نا ممکن ہے۔ اور ان کی آواز اس قدر کمزور نہ رہے گی جس قدر کہ اب ہے بلکہ ہر ایک ان کی آواز سے ڈرے گا اور اس کا ادب کرے گا اور اس پر کان رکھے گا۔