انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 570

انوار العلوم جلد 9 ۵۷۰ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض سے نہیں اپنے بیوی بچوں کی صحبتوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں کیا تم برف اور مٹھائی ترک نہیں کر سکتے۔ اور کیا مسلمان کا دماغ اور سب کام کر سکتا ہے مگر یہ کام نہیں کر سکتے۔ کیا د تبلیغ اسلام دوسرا کام جو حقیقی کام ہے ابتدا اس کا ار ہندوں پر ایسا ہو گا جیسا کہ دوسرا کام جو حقیقی کام ہے لیکن ابتداء اس کا اثر ہندوؤں پر ایسانہ ہو گا جیسا کہ نام پہلے کام کا، وہ تبلیغ اسلام ہے۔ ہندوؤں کو رسہ ہندوؤں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے خلاف حملہ کرنے کی جرأت صرف اس خیال سے ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں خالص ہندو مذہب قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ہم تبلیغ کے کام کو خاص زور سے اختیار کریں تو اسلام میں ایسی طاقت ہے کہ کوئی مذہب اس کے مقابلہ میں گھر ہی نہیں سکتا۔ پس یقینا اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بہت جلد بہت سی ہندو اقوام جو برہمنگ اصول مدارج سے تنگ آچکی ہیں اسلام میں داخل ہونے لگیں گی اور ہندوؤں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ہندو بنا لینے کا خیال بالکل وہم ہے اور خود بخود ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔ سیاسی حقوق کا فیصلہ تیری تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے سیاسی حقوق کا استقلال سے مطالبہ کریں۔ میں حیران ہوں کہ مسلمان کس طرح اس امر پر راضی ہو گئے کہ پچپن فی صدی آبادی کے باوجود چالیس فی صدی حقوق انہوں نے طلب کئے لیکن ملے اب تک وہ بھی نہیں۔ مسلمانوں کی یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ ملازمتوں کو حقیر چیز خیال کرتے تھے۔ ملازمت اگر ایسی ہی حقیر ہوتی تو ہندو جو ایک بیدار قوم ہے کیوں اس طرح اس کی خاطر اپنی تمام تر طاقت خرچ کر دیتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملازمت اپنی ذات میں بڑی شئے نہیں لیکن اس کا واسطہ تمدنی ترقی سے اس قدر ہے کہ اس میں کمی یا زیادتی قوم کو تباہ کر سکتی یا بنا سکتی ہے۔ ملازمت کے سوا قومی گزارہ کا ذریعہ یا زراعت ہے یا ٹھیکہ داری یا صنعت و حرفت۔ مگر کیا زراعت کی کامیابی شہروں، تحصیل کے عملہ اور جوڈیشری پر موقوف نہیں۔ ٹھیکہ داری پبلک ور کس ریلوے اور نہروں سے متعلق نہیں۔ اور تجارت اور صنعت و حرفت گورنمنٹ سپلائی کے ساتھ وابستہ نہیں۔ جن لوگوں کے پاس ملازمتیں ہوں گی وہی ان کاموں میں ترقی کریں گے اور کر رہے ہیں۔ جس قدر بڑے بڑے مالدار ہندو اس وقت ہیں ان میں سے اکثر کو دیکھ لو کہ ان کی ترقی کا پہلا زینہ سرکاری ٹھیکہ داری پاؤ گے اور اس کا باعث ہندو افسر ہو گا۔ پس مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اپنی تعداد کے مطابق یا کم سے کم پچاس فی صدی تک اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی متواتر کوشش کریں۔ اور اس وقت تک بس نہ کریں جب تک کہ یہ