انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 562

انوار العلوم جلد 9 ۵۶۲ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض میں قانون کی وضع کرنے والی جماعت اور جن کے لئے وہ قانون بنا تھا سب کے سب اس قانون کے ایک معنوں پر متفق تھے بلکہ جیسا کہ ایک بعد کے فیصلہ سے معلوم ہوا ہے ایک ہمسایہ صوبہ کی عدالت عالیہ بھی اس قانون کا وہی مفہوم لیتی تھی تو کیا اس صورت میں پبلک میں ہیجان پیدا ہونا ایک لازمی امر نہ تھا۔ کیا پبلک اس موقع پر یہ نتیجہ نہیں نکالے گی کہ غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی فیصلہ ہوا ہے۔ اور کیا خود ہائی کورٹ کی عزت کے قیام کے لئے اس امر پر روشنی ڈالنا ہائی کورٹ کے لئے ضروری نہ تھا۔ اگر بغیر اس کے کہ کنور صاحب پر بد دیانتی کا الزام لگایا جائے پبلک کے لئے یہ فیصلہ استعجاب و حیرت کا موجب تھا تو پھر مسلم آؤٹ لک کا مطالبہ عدالت عالیہ کی ایک بہت بڑی خدمت تھی نہ کہ جرم جس کی پاداش میں اسے سزادی جائے۔ معاملہ کی حقیقی حیثیت اگر معاملہ کسی معمولی قانون کی تشریح کا ہوتا تو اور بات تھی۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ تھا کہ ایک قانون کے ایک معنے سالہا سال سے ثابت شدہ سمجھے گئے تھے گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نگاہ میں بھی اور کنور صاحب نے ان مسلّمہ معنوں کو غلط قرار دیا تھا۔ پس ایسے وقت میں اگر مسلم آؤٹ لک نے اپنی آواز اُٹھائی خصوصاً اس حال میں کہ اس فیصلہ سے مسلمانوں کے دل مجروح ہو رہے تھے تو اگر فاضل جان کے نزدیک وہ آواز بے موقع بھی تھی تو زیادہ سے زیادہ اسے نامناسب قرار دینا چاہئے تھا نہ یہ کہ وہ اس قدر سخت سزا دیتے۔ پھر ہائی کورٹ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا اس سزا سے ہائی کورٹ کی وہ عزت قائم ہو گئی جسے وہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس سزا کے بعد تو مسلمانوں کے دل اور بھی غم و غصہ سے بھر گئے ہیں۔ اور وہ پہلے تو صرف ایک حج کے فیصلہ کی نوعیت پر معترض تھے اب عدالت عالیہ کے بہت سے ججوں کے متفقہ فیصلہ کے وہ اپنے مفاد اور منشائے قانون کے سخت خلاف سمجھ رہے ہیں۔ پس بجائے فائدہ کے اس فیصلہ سے نقصان پہنچا ہے۔ اور خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ کنور صاحب کا فیصلہ اور مسلمانوں کا جوش میں کنور صاحب کے فیصلہ کے متعلق صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک فاضل جوں نے اس امر کو نہیں سمجھا کہ کنور صاحب کے فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں جوش کیوں ہے۔ اگر وہ ایک مسلمان کی حیثیت میں اپنے آپ کو فرض کرتے جس طرح کہ مسٹر جسٹس دلال نے اپنے آپ کو فرض کیا تھا تو یقینا وہ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتے۔