انوارالعلوم (جلد 9) — Page 560
انوار العلوم جلد 9 ۵۶۰ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض صاحب نے اپنے جواب کے آخر میں درج کر دیا اور مؤمنانہ غیرت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اپنا حقیقی جواب وہی دیتے جو انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دیا۔ قانون کا حیرت انگیز نقص کل خبر آگئی ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ اور سید دل اور شاہ صاحب بخاری ایڈیٹر مسلم آؤٹ لک کو چھ ماہ قید اور ساڑھے سات سو روپیہ جرمانہ ہوا ہے اور مولوی نور الحق صاحب پروپرائیٹر کو تین ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوا ہے۔ ہمیں قانون کے اس نقص پر تو حیرت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ نَفْسِي وَ رُوحِی کی عزت پر ناپاک سے ناپاک حملہ کرنے والوں پر تو مہینوں مقدمہ چلے اور آخر میں براءت ہو اور اور رہا ہائی کورٹ کے متعلق ایک ایسی بات لکھنے پر جو صرف تاویلا اس کی ہتک کہلا سکتی ہے آٹھ دن کے اندر اندر دو معزز شخص جیل خانہ میں بھیج دیئے جائیں۔ یہ میں تفاوت ره از کجاست تا به کجا۔ ہمارے بھائی آج جیل خانہ میں ہیں لیکن اپنے نفس کے قید ہونے والوں کی بہادری لئے ہیں ، اپنی عزت کے لئے تمہیں کسی دنیوی دنیوی غرض کے لئے نہیں، اس وجہ سے نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے تھے نہ اس لئے کہ وہ کسی کے حق کو دبانا چاہتے تھے بلکہ صرف اس لئے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے غیرت کا اظہار کیا۔ ان کی یہ بہادرانہ روش ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گی کہ دونوں نے سارا بوجھ اپنے ہی سر پر اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور دوسرے کی براءت کی کوشش کی ہے۔ اس مصیبت کی آگ میں سے یہ ایک ایسی خوشبو اُٹھی ہے کہ باوجود صدمہ زدہ ہونے کے دماغ معطر ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ کے جیل خانے بے وفاؤں اور غداروں کے لئے تیار کئے گئے تھے لیکن آج انہیں دو وفادار شخص جنہوں نے دو جہان کے سردار سے بھی وفاداری کی اور گورنمنٹ کی بھی وفاداری کی زینت دے رہے ہیں۔ کیا مسلم آؤٹ لک نے عد نے عدالت کی توہین کی محترم جان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان دونوں صاحبان نے یہ کہہ کر کہ یہ فیصلہ غیر معمولی ہے اور غیر معمولی حالات میں ہوا ہے اور اس کی تحقیق ہونی چاہئے عدالت عالیہ کی ہتک کی ہے۔ مگر میرے نزدیک عدالت عالیہ کی یہ رائے درست نہیں۔ یہ کہنا کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے اس سے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں اس