انوارالعلوم (جلد 9) — Page 553
انوار العلوم جلد 9 ۵۵۳ رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے ؟ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے ہیں۔ بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں۔ اور پنجاب ہائیکورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے لیں۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا ایک اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانون فطرت ہے۔ وہ اپنی طاقت کی بناء پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانون قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔ اور قانونِ قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوئی ہے اسے برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا اور اب جبکہ ہند و صاحبان کی طرف سے ہمارے رسول پاک کی اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ جس کا واہمہ بھی آج سے پہلے ہمیں نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جبکہ باقی قوم نے ان لوگوں کو ملامت نہیں کی بلکہ ان کا ساتھ دیا ہے تو اب مسلمانوں سے اس وقت تک صلح کی امید رکھنی اور محبت کی توقع رکھنا بالکل فضول اور عبث ہے جب تک یہ لوگ اپنے افعال پر ندامت کا اظہار نہ کریں۔ آہ! میں انسانی فطرت کے اس ناپاک اظہار کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ہم لوگ تو ہندو رشیوں اور ہندو بزرگوں کا ادب کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں خدا تعالی کا برگزیدہ تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ لوگ ہمارے آقا اور سردار" کے متعلق اس قسم کے گندے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اس ناپاک فعل سے ذرہ بھی نہیں شرماتے۔ مگر میرے نزدیک اس میں ان کا قصور نہیں۔ وہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں اب غیرت نہیں رہی۔ وہ کبھی کبھی بیجا جوش تو دکھا بیٹھتے ہیں۔ لیکن غیرت جو مستقل عمل کو اُبھارنے والی ہے ان میں کم ہے اس لئے وہ دلیر ہو رہے ہیں۔ اور وہی تدابیر اختیار کر رہے کر رہے ہیں جو چین میں مسیحیوں نے ان نے اختیار کی تھیں اور وہ یہ تھیں کہ جب انہوں نے ارادہ کر لیا کہ چین سے مسلمانوں کو نکال دیا جائے تو انہوں نے اپنی قوم کو اُبھارنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا کہ بعض لوگ مساجد میں مسلمانوں کا لباس پہن کر چلے جاتے اور جب مسلمان جمع ہو جاتے تو ایک یا ایک سے زیادہ آدمی کھڑے ہو کر بے نقط گالیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالنے لگ جاتے۔ مسلمان ان کی تدبیر سے واقف نہ تھے بعض جو شیلے نوجوان ان کو قتل کر دیتے تو وہ سب ملک میں شور مچا دیتے کہ دیکھو اس طرح ظالمانہ طور پر مسیحیوں کو مارا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب قوم بیدار ہو گئی اور اس میں ایک آگ بھڑک اُٹھی اور اس جوش سے فائدہ اُٹھا کر مسیحی ریاستوں نے مسلمانوں کو جو پہلے ہی کمزور ہو رہے تھے ملک سے نکال دیا۔ یہی تدبیر مذکورہ بالا قسم کی ہندو مصنفین استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اس