انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 531

انوار العلوم جلد 9 ۵۳۱ آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں ؟ میں دین کی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہوتا تو تبلیغ میں حصہ لیتا۔ اگر وہ لیکچر دینے کا عادی نہیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ اگر مجھے لیکچر دینے کی عادت ہوتی تو میں ایسے دُھواں دھار لیکچر دیتا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگا دیتا۔ اگر وہ مصنف نہیں تو حسرت کرتا ہے کہ اگر میں مصنف ہوتا تو دشمنان اسلام کو ایسے دندان شکن جواب دیتا کہ پھر انہیں اسلام پر حملہ کرنے کی جرات نہ رہتی۔ غرض قسم قسم کے خیالات اس کے دل میں آتے ہیں اور پیچ و تاب کھا کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری قربانی جو وہ اسلام کے لئے کرتا یا کر سکتا ہے، اس کی ساری خدمت جو وہ ہدیہ کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش کرتا یا کر سکتا ہے ایک سرد آہ ہوتی ہے کہ وہ بھی فرط یاس سے منہ تک آتے آتے رہ جاتی ہے۔ اسلام کا درد رکھنے والے کی وہ گھڑیاں کچھ عجیب رقت خیز گھڑیاں ہوتی ہیں۔ اس کا اپنے جی ہی جی میں تڑپ تڑپ کر رہ جانا، اس کا اندر اندر ہی اپنے ہی غضب میں جل بجھ کر رہ جانا خود ایک تکلیف وہ قربانی ہوتا ہے مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ؟ اے اسلام کا درد رکھنے والے انسانو! میں آپ لوگوں کی اس حالت کو اپنی باطنی نظر سے دیکھتا ہوں اور آپ کی یہ کرب کی گھڑیاں میری روحانی آنکھوں کے سامنے ہیں اور اسی لئے میں نے اس وقت قلم اٹھایا ہے تاکہ میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں کہ آپ کے لئے خدمت کے بہت سے راستے کھلے ہیں۔ آپ اپنے گھر بیٹھے اور اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور انہیں دشمنوں کے حملہ سے بچا سکتے ہیں۔ پیشتر اس کے کہ میں یہ بتاؤں کہ آپ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی کیا خدمت کر سکتے ہیں میں یہ بتانا چاہتا ہوں۔ کہ موجودہ فتنہ ارتداد کی وجہ کیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر آپ اچھی طرح نہیں سمجھ سکیں گے کہ آپ اسلام کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ میں نے اس فتنہ ارتداد کے مختلف پہلوؤں پر نظر کر کے اس حقیقت کو پالیا ہے جو اس فتنہ کے نیچے مخفی ہے وہ ہمہ گیر تنزل ہے۔ جو مسلمانوں کی عام حالت میں رونما ہو رہا ہے۔ مذہب اسلام سے نہ پہلے کوئی بیزار ہوا نہ اب بیزار ہوتا ہے۔ اس فتنہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے آج ترقیات کے تمام راستے بند ہیں اور وہ جہالت اور جمود کی انتہائی گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں۔ علم میں وہ اپنی ہمسایہ قوموں سے پیچھے ہیں، تجارت میں وہ پیچھے ہیں ، صنعت و حرفت میں وہ پیچھے ہیں، ملازمتوں میں وہ پیچھے ہیں ، صرافی میں وہ پیچھے ہیں۔ اور نہ صرف وہ ان امور میں دوسری قوموں سے پیچھے ہیں بلکہ اکثر شعبہ ہائے زندگی میں ان کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی مسدود ہے۔ ہمسایہ