انوارالعلوم (جلد 9) — Page 529
انوار العلوم جلدي ۵۲۹ آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں ؟ أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ ( رقم فرموده مئی ۱۹۲۷ء ) اس وقت مسلمانوں کی حالت جس قدر نازک ہو رہی ہے اس سے ہر اک مسلمان کہلانے والے کا دل پگھل رہا ہے۔ وہ زمانہ تو گیا ہی تھا جبکہ مسلمان ہندوستان پر حاکم تھے اور پشاور سے چین تک اور ہمالیہ سے راس کماری تک ان کی حکومت تھی۔ ایک باہر کی قوم کی نگرانی میں کم سے کم انہیں یہ امید ضرور تھی کہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ برابر کی عزت یا برابر کی ذلت کے ساتھ بسر کریں گے۔ لیکن یہ امید بھی پوری نہ ہوئی۔ اور ہر شعبہ زندگی میں وہ ناکام رہے۔ ملازمتیں ان کے لئے بند ہو گئیں، تجارتیں ان کی تباہ ہو گئیں، صنعت و حرفت ان کی جاتی رہی، وہ بادشاہ تھے رعایا بنے اور رعایا بننے کے بعد رعایا کے ایک دوسرے حصہ نے جو در حقیقت ان کی اپنی برادری میں سے تھا برادران یوسف کا سا سلوک ان سے کرنا شروع کیا۔ مگر مسلمان جو قریب میں ہی حکومت اپنے ہاتھ سے کھو چکے تھے انہوں نے اس تغیر کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ مگر افسوس کہ ہند و صاحبان نے تمدنی اور سیاسی برتری اور غلبہ کو کافی نہ سمجھا اور مسلمانوں کے مذہب پر دست اندازی کرنی شروع کی۔ شدھی اور سنگھٹن کا جال پھیلا کر اس بات کا اعلان کر دیا کہ ہندوستان میں ہندو ہی رہ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مونجے، بھائی پر مانند اور ساورکر وغیرہ نے جو موجودہ ہندو حملہ کے لیڈر ہیں صاف لفظوں میں کہدیا ہے کہ یا مسلمان ہندو ہو جائیں یا ہم ان کو ہندوستان سے باہر نکال دیں گے۔ ہندوستان ہندوؤں کا ہے اور وہی اس میں رہ سکتے ہیں۔ اس مقصد کو کھلے طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔ بعض سیاسی لیڈروں نے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ پردہ اس قدر باریک ہے