انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 525

انوار العلوم جلد ؟ ۵۲۵ فسادات لاہو ر پر تبصرہ رہتے ہیں لیکن مسلمانوں سے مل کر وہ ایک زبردست پارٹی بنا سکتے ہیں جو پنجاب کو اس کی پرانی شان و شوکت پر قائم کرنے میں نہایت مفید ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہر جگہ ہر قصبہ اور ہر شہر کے مسلمانوں کو جلسے کر کے گورنمنٹ کو توجہ دلانی چاہئے کہ وہ یا تو سب کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دے یا پھر کسی کو بھی اجازت نہ دے۔ ورنہ ہر وقت کے خوف کی وجہ سے مسلمانوں کی اخلاقی حالت بہت ہی گر جائے گی۔ لیکن جب تک گورنمنٹ اس بارہ میں کوئی کار روائی نہ کرے، جہاں قانون اجازت دیتا ہے، وہاں کے مسلمانوں کو اپنے پر فرض کر لینا چاہئے کہ ہر ایک شخص اپنے گھر میں ایک سو نٹا رکھے اور جب بھی وہ گھر سے باہر نکلے سونٹا لے کر نکلے خواہ وہ نماز کے لئے ہی کیوں نہ جاتا ہو۔ اگر اس امر کی طرف پہلے توجہ کی جاتی تو اس قدر جان کا نقصان نہ ہوتا۔ ہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مسلمان کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق کبھی حملہ میں ابتداء نہیں کرے گا بلکہ صرف مجبوری کی حالت میں جب اپنی جان کو خطرہ میں دیکھے گا سونٹے کو استعمال کرے گا اور وہ بھی اس وقت تک کہ حملہ آور بے کار ہو جائے اور انسانی جان کے لینے سے بکلی اجتناب کرے گا۔ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ مسلمان مقتولین و مجروحین اور ان کی جو بے قصور گرفتار کئے گئے ہیں خصوصاً اور ہندو اور سکھ مقتولین و مجروحین کی عموماً مدد کریں۔ تا ان گھروں پر جن کے آدمی مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں ، دو ہری مصیبت نازل نہ ہو ۔ ایک مصیبت جان کی اور دوسری فاقہ کشی کی۔ ہمیں اس امداد میں اسلامی تعلیم کے مطابق اس قدر وسیع الحوصلہ ہونا چاہئے کہ ہندو اور سکھ مقتولین اور مجروحین کی امداد سے بھی غفلت نہ کی جائے۔ مسلمان ہمیشہ مصیبت زدہ دشمن کی مدد کرتے چلے آئے ہیں حتی کہ ترک اس گئے گزرے زرے زمانہ میں بھی جنگی قیدیوں کو آپ بھوکا رہ کر کھانا کھلاتے رہے ہیں۔ پس ہماری ہمدردی کی بنیاد قرآن کریم کے پیش کردہ خدا کی طرح ربوبیت عالمین پر ہونی چاہئے۔ میں اس غرض کے لئے اپنی جماعت کی طرف سے دو سو روپیہ کا وعدہ کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے احباب اپنے اپنے حلقہ اثر میں دوسرے بھی خواہان بنی آدم سے بھی مناسب رقوم جمع کر کے اس غرض کیلئے بھجوائیں گے تاکہ جلد سے جلد مصیبت زدگان کی مناسب امداد کی جائے۔ میں نے اپنے چیف سیکرٹری خان ذو الفقار علی خان صاحب برادر مولوی محمد علی صاحب