انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 518

انوار العلوم جلد 9 ۵۱۸ مذہب اور سائنس کیوں ہوتے۔ پاگل کے کام کے نتائج نہیں ہوا کرتے۔ جنون (HALLUCINATIONS) کی تصدیق واقعات سے نہیں ہوا کرتی۔ اور پاگلوں (DELUSIONS) کی ایک بڑسے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ مگر یہ کس طرح ہوا کہ ایک مجنون (HELLUCINATIONS) کی تمام دنیا کی تجاویز پر غالب آگئیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ تم میرے مقابل پر سارے مل جاؤ ، متفق ہو جاؤ، پھر بھی میری پالیسی غالب رہے گی اور میں ہی جیتوں گا۔ اگر یہ خدا کا کلام نہ تھا تو وہ غالب کیوں ہوا۔ یہ بات عام تجربہ اور مشاہدہ سے پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ وہ افکار جو دماغی کیفیت کا نتیجہ ہوں بڑھاپے میں جا کر کمزور ہو جاتے ہیں۔ اور جیتیں عمر بڑھنے سے کم ہو جاتیں ہیں۔ مگر انبیاء علیہم السلام میں اس کے برخلاف بڑی عمر میں جاکر زیادہ شاندار الہام ہوتے ہیں۔ اور الہام بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ الہام اکثر دفعہ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی کیفیت، کمیت، اور جلال میں بھی زیادہ شاندار ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب دماغ کمزور ہو گیا، اس میں فاسفورس مٹ گیا اور اس کے CELLS کمزور ہو گئے تو الہام زیادہ ہونے لگ گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انبیاء کے الهام کسی خاص دماغی کیفیت کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ورنہ عام قانون طبعی کے ماتحت ان کو بڑھاپے میں کم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر یہاں بالکل اس کے برعکس ۔ اس کے بر عکس ہے۔ ان کا الہام جوانی میں اگر ستارہ کی طرف ہو تو بڑھاپے میں سورج کی مانند ہوتا ہے جو کہ نیچر کے قانون کے خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ الہام وہم کا نتیجہ نہیں ہو تا بلکہ خدا کا کلام ہوتا ہے۔ نوجوانوں سے اپیل آخر میں میں نوجوانوں سے اپیل کرتا تا ہوں کہ قطع نظر میرے منسوب ہوتے ہو اس مذہب کے تم بھی چونکہ اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہو اس لئے مذہب اسلام کا مطالعہ کرو۔ قرآن کو ہاتھ میں لو اور اس پر غور کرو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سائنس مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ کوئی بھی سائنس مذہب کے خلاف نہیں اور کوئی سچا مذہب سائنس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی مسئلہ کے متعلق شک ہو تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔ میں تم کو بتادوں گا کہ کوئی سائنس کا مسئلہ اور کوئی صحیح فلسفہ اسلام کے خلاف نہیں۔ تم کو سب سے اچھا مذہب ملا ہے۔ تم اس کی قدر کرو۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے متعلق کفار بھی رشک کرتے اور کہتے تھے کہ کاش یہ ہمارا مذہب ہوتا۔ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ -