انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 516

انوار العلوم جلد 9 ۵۱۷ مذہب اور سائنس کہا جاتا ہے کیا خدا کی بھی زبان ہے۔ اس کے بھی حلق ، دانت اور VOCAL CORDS وغیرہ ہیں۔ جن کی مدد سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ خدا کی زبان اور ہونٹ وغیرہ سے آواز نکل کر علم کے کان میں سنائی دیتی ہے۔ ہم تو کہتے ہیں:۔ الہام کے ذریعے کان میں آواز پیدا کی جاتی ہے نہ یہ کہ خدا کے ہونٹ اس کو بناتے ہیں۔ الفاظ تو اسی ہوا کی VIBRATIONS لہروں کے ذریعے کان میں جاتے ہیں اور اعصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہ الفاظ فکر کا نتیجہ نہیں ہوتے، قلبی خیالات نہیں ہوتے بلکہ بنے بنائے الفاظ خدا کی طرف سے کان میں ڈالے جاتے ہیں۔ الهام پانے والوں اور مجانین کی حالت میں فرق یہ قاعدہ ہے کہ جو خیال اور کی میں فرق ہیں یا وہ یہ ہے باطل ہو یا وہم کا نتیجہ ہو، اس کی تصدیق صرف ایک حس کرتی ہے۔ مثلاً وہ نظارہ جو قلبی خیالات کا نتیجہ ہو یا وہمی ہو اس کی تائید صرف آنکھ کرتی ہے۔ مگر کان اور ہاتھ اس کو جھٹلاتے ہیں۔ مثلاً اندھیرے میں کسی کو کوئی آدمی کمرے کے اندر کھڑا نظر آئے تو اگر یہ نظارہ و ہم کا نتیجہ ہو گا تو اس شخص کو ہاتھ سے چھونے سے کچھ معلوم نہ ہو گا۔ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَی تکلیما۔ ۲۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے زبان سے کلام کی بلکہ یہ لفظ زور دینے کے لئے اور شان کے اظہار کے لئے ہے۔ یعنی وہ ایسا کلام تھا کہ اس کی تصدیق نہ صرف کان بلکہ دیگر حواس بھی کرتے تھے۔ پس الهام کی تصدیق کئی حواس کرتے ہیں اور نہ صرف علم کے حواس بلکہ دوسرے لوگ بھی اس کو محسوس کرتے ہیں۔ دوسرا فرق الہام اور وہم میں یہ ہے کہ الہام پانے والوں کو دوسروں پر عقلی برتری حاصل ہوتی ہے۔ مگر وہم تو بد تر عقل والوں کو ہوا کرتا ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام عرب نے گواہی دی کہ یہ شخص سب سے بڑھ کر صاحب عقل و فراست ہے۔ چنانچہ کعبہ کی تعمیر کے وقت جب سنگ اسود کو نصب کرنے پر مکہ والوں میں جھگڑا ہوا کہ کسی قبیلہ کا سردار اس کو اٹھا کر نصب کرے۔ اور قریب تھا کہ کشت و خون سے زمین سرخ ہو جائے۔ اس وقت کسی نے کہا اس نوجوان ( محمد رسول اللہ ) سے پوچھو۔ تو حضور نے جس عقلمندی اور موقع شناسی سے اس وقت کام کیا وہ تاریخ اسلام کے جاننے والوں پر خوب روشن ہے۔ ۲۸ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دماغ نہایت اعلیٰ تھا۔ وہم تو ایک اندرونی بات ہے اور جنون کی علامت ہے جو ایسے عقیل کے