انوارالعلوم (جلد 9) — Page 513
انوار العلوم جلد و ۵۱۳ ذہب اور سائنس نہیں بنا رہا۔ وہ تو بنا کر الگ ہو گیا ہے۔ اگر ہم اس کو بناتے دیکھتے تو بتا دیتے کہ اس کا بنانے والا ہے۔ ہم مگر در حقیقت یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ دیکھا اس صانع خدا کس طرح کام کرتا ہے کو جاسکتا ہے جو ہاتھ سے کام کر رہاہو۔ کم رجب کام مگر ۲۳ ارادہ سے ہو رہا ہو تو وہ وجود نہیں ملا کرتا۔ مثلاً کسی کے کان میں چپکے سے کہہ دیا جائے کہ فلاں کام کرو۔ تو دیکھنے والا کس طرح پتہ لگا سکتا ہے کہ کون کام کرا رہا ہے۔ اللہ تعالٰی بھی چونکہ ہاتھ سے کام نہیں کرتا بلکہ ارادہ سے کرتا ہے اس لئے صحیفہ قدرت کے اندر اس کو کام کرتے ہوئے دیکھنا بھی مشکل ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - وہ کام کن کے ذریعہ کرتا ہے نہ کہ ہاتھ ہے۔ اور ارادہ سے کام کرنے کی نہایت ادنیٰ مثال مسمریزم کرنے والوں میں مل سکتی ہے جو اپنی توجہ سے اثر ڈالتے ہیں۔ گو بعض ہاتھ سے بھی PASSES کرتے ہیں مگر مخفی توجہ کا اثر بھی ہوتا ہے۔ جس میں بغیر ہاتھ کی حرکت یا زبان سے کلمہ نکالنے کے اثر ہوتا ہے۔ ایک دلچسپ تجربہ توجہ کار معلوم کرنےکے لئے یہ تجربہ کیا جاسکتاہے کہ کسی لڑکے کی آنکھیں بند کر کے اسے کمرے کے وسط میں چکر دے کر چھوڑ دو۔ کر اس طرح جہات جو نسبتی چیز ہیں اس کے ذہن سے نکل جائیں گی۔ اب سب ملکر اس پر اثر ڈالو اور ذہن میں تصور کرو کہ یہ مثلاً مغرب کی طرف چلے تو وہ لڑکا مغرب کی طرف چلنے لگ پڑے گا۔ اب دوسروں کو یہ نظر نہ آئے گا۔ کیونکہ کام توجہ اور ارادہ سے ہو رہا ہے نہ کہ ہاتھ سے۔ خدا تعالیٰ مخلوق کا سرچشمہ نہیں بلکہ خالق ہے۔ سرچشمہ تلاش سے مل جایا کرتا ہے مگر خالق نہیں ملا کرتا۔ مثلا دریائے راوی کے منبع کا پتہ لگانا ہو تو پانی کے کنارے چل پڑو آخر اس کا منبع مل جائے گا۔ مگر خالق کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے۔ کہ قانون کیا قانون قدرت کا علم خدا کے خلاف ہے بعضوں کا یہ خیال ہے قدرت معلوم ہو گیا اور اس کے مخفی در مخفی اسباب کا علم ہو گیا تو بس خدا باطل ہو گیا اور اس کی ضرورت کی نفی ہو گئی۔ مثلاً بچہ کی تحقیق ہے۔ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ نطفہ سے مختلف شکلیں بدل کر انسان بنتا ہے یا ن (DARWIN) کی تھیوری نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان نے مختلف ارتقائی دوروں میں سے گذر کر یہ شکل اختیار کی ہے۔ یا اگر یہ معلوم ہو گیا کہ پانی دو گیسوں ہائیڈ روجن اور آکسیجن ڈارون