انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 505

انوار العلوم جلد 9 ۵۰۵ ذہب اور سائنس اپنی ناک کاٹ لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ ہر بات سے ایک طبعی نتیجہ نکالتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا شرعی نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً اس آیت سے طبعی نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ہر چیز مفید ہے۔ اور موذی اشیاء سے بھی خدا کی حمد ہی نکلتی ہے۔ اس سے ایک شرعی نتیجہ بھی نکالا ہے اور وہ یہ کہ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُ وا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ یعنی بعض لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھے وہ شرک کرنے لگ پڑے ہیں۔ مثلاً زرتشتی مذہب کے لوگ۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ موذی اشیاء کا خالق کوئی اور ہے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا چونکہ رحیم ہستی ہے اس لئے موذی اشیاء مثلاً سانپ اور بچھو زہر وغیرہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا موذی اشیاء کا خالق کوئی اور ہونا چاہئے۔ مگر یہ غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے موذی اشیاء کی پیدائش کی حقیقی غرض کو نہیں سمجھا۔ ورنہ وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچتے کہ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس ہر ایک بظاہر لغو اور موذی چیز اصل میں مفید ہے۔ اس کی پیدائش کی غرض نیک ہے۔ اور اس سے خدا کی حمد ہی ثابت ہوتی ہے۔ ہاں اگر ہم قوانین طبعی کی خلاف ورزی کر کے نقصان اٹھائیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ اس سے خدا تعالی کے رحم پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔ ہر چیز کا جوڑا ہے قرآن نے فرمایا ہر چیزکو اللہ تعالی نے اور مادہ پیدا کیا ہے۔ یعنی ہر چیز کا جوڑا ہے۔ فرمایا وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ گویا نر تَذَكَّرُونَ * پھر آتا ہے ۔ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ - اور مادہ مل کر مکمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں آپس میں نہ ملیں تو ان کی مادی قوتیں ظاہر نہیں ہو سکتیں۔ عرب کو کھجور کے جوڑے کا تو علم تھا مگر ان کو ہر درخت کا جوڑا ہونے کا علم نہ تھا اور نہ ہی غیر ذی روح اشیاء کے جوڑے کا علم تھا جب تک کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو اُن پر منکشف نہ کیا۔ ایک یورپین مصنف لکھتا ہے۔ تم عرب کے لوگوں کو جاہل مت خیال کرو ان کو اس حقیقت کا علم تھا کہ درختوں میں نر و مادہ ہوتے ہیں۔ میں ایک دفعہ گورداسپور گیا اور وہاں کے ایگریکلچرل فارم کا ملاحظہ کیا۔ تو وہاں کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مجھ کو بتایا۔ یہ گیہوں کے خوشے جو ہیں ان میں سے فلاں نر اور فلاں مادہ ہیں۔ جب سائنس میں اور ترقی ہو گی تو باقی درختوں کے بھی جوڑے معلوم ہو جائیں گے۔ غیر غیر ذی ذی روح اشیاء مثلا مثلاً کلی بجلی وغیرہ کا کا بھی جوڑا ہے۔ منفی اور مثبت بجلی بجلی کا کا آپ کو علم ہے۔ غرض اس اصل کو بیان کر کے قرآن کریم نے علمی دنیا پر ایک عظیم الشان احسان کیا ہے اور اس کے