انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 484

انوار العلوم جلد 9 ۴۸۴ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل کرے اور دوسرے اگر وہ اتحاد اور اتفاق نہیں کریں گے تو دوسری قومیں ان کو آسانی سے مٹادیں گی اس موقع پر میں ایک مولوی اور ایک سید اور ایک عام آدمی کا قصہ سناتا ہوں جو واقعی اس قابل ہے کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے۔ مولوی، سید اور ایک اور آدمی یہ تینوں کسی - سفر پر گئے۔ راستہ میں ان کو ایک باغ ملا جس میں گھس گئے اور میوے توڑنے شروع کر دیئے کچھ تو کھائے اور کچھ توڑ توڑ کر ضائع کئے۔ اتنے میں باغ کا مالی آگیا اس نے دیکھا تو دل میں سوچا میں اکیلا ہوں اور یہ تین ہیں اگر میں انہیں کچھ کہتا ہوں تو تینوں میرا بھر کس نکال دیں گے چاہئے کہ تدبیر سے ان پر قابو پاؤں۔ یہ سوچ کر وہ ان کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بڑے نرم الفاظ میں سید سے کہنے لگا آپ سید ہیں سب کچھ آپ کا ہی ہے اور مولوی لوگ رسول کریم کی گدی پر بیٹھنے والے ہیں مگر یہ تیسرا کون ہے جو آپ کی برابری کرے سرے کو نقصان پہنچائے اس پر سید اور مولوی چپکے کھڑے رہے اور اس نے تیسرے آدمی کو خوب مارا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر الگ رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ پھر سید سے مخاطب ہو کر کہنے لگا آپ تو آل رسول ہیں سب کچھ آپ کا ہی ہے مگر یہ مولوی کون ہے جو خواہ نخواہ حصہ دار بن بیٹھا ہے یہ کہہ کر اس نے مولوی صاحب کو پکڑ لیا اور خوب مارا اور سید صاحب الگ کھڑے دیکھتے رہے کہ ہم تو اصل مالک ہیں یہ اس ڈاکو کو مار رہا ہے۔ پھر زمیندار نے اس کو بھی باندھ کر ایک طرف پھینک دیا۔ پھر سید کی طرف لپکا اور کہا کہ تو آل رسول بنا پھرتا ہے شرم نہیں آتی لوگوں کا مال بغیر اجازت کے کھاتا ہے اور ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے سید صاحب کو بھی خوب پیٹا اس ترکیب سے اس نے تینوں کو سزا دے لی۔ مسلمان بھی اگر اسی طرح رہے اور اتفاق و اتحاد نہ کیا تو خطرہ ہے کہ ان تینوں کی طرح ایک ہی قوم کے ہاتھ سے تباہ ہو جائیں گے۔ پس میرے نزدیک موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بہت ضروری ہے کہ اتحاد بین المسلمین ہو ورنہ دوسرے لوگ مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے اور مسلمان اگر متحد نہ ہوئے تو منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے۔ اشتہار کا جواب اب میں اس اشتہار کے سوال کا جواب دیتا ہوں جو مجھے ابھی ملا ہے اور جس میں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان کہتا ہوں کہ کافر۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں جواب دوں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو بات صاحب اشتہار نے پوچھی ہے وہ پہلے سے ہی میرے اس لیکچر کے نوٹوں میں شامل ہے اور مجھے خود اس پر بولنا تھا۔ اب انہوں نے وہی بات پیش کی ہے اس لئے میں ان کی توجہ کے لئے اور دوسرے لوگوں کے واسطہ کہتا ہوں کہ میں نے