انوارالعلوم (جلد 9) — Page 482
انوار العلوم جلد 9 ۴۸۲ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل جا پہلے اسے تمہارا اونٹ کہاں ہے اس نے عرض کی اللہ کے توکل پر اسے باہر ہی چھوڑ آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا اسے رسہ سے مضبوط باندھ اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل رکھ ۔ ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو تدبیر کی تعلیم دینا چاہتے تھے کہ انسان کا کام اور بالخصوص ایک مسلمان کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہر معاملے میں تدبیر کرے اور ساتھ ساتھ دعا کے سلسلے کو جاری رکھے اور پھر خدا پر توکل کرے۔ اس کے مطابق میں بھی آج آپ لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں آپ صحیح معنوں میں مسلمان بنیں وہاں صحیح تدبیر کرنے والے بھی ہو جائیں اور جب وہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کا محافظ ہو جائے گا اور خود ان کی حفاظت کرے گا اور دشمن کے حملوں کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ مسلمان سات کروڑ ہو کر ڈر رہے ہیں قرآن شریف میں آتا ہے اِنَّ الله رہے لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم ها یعنی اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی نعمت نہیں چھینتا جب تک وہ آپ اس نعمت کو خراب نہ کر دے اور اس کی بے قدری کر کے اس قابل نہ ہو جائے کہ اس سے نعمت واپس چھین لی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خراب کرنا اور ان کی بے قدری کرنا یہی ہے کہ ان کا صحیح استعمال نہ کیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حکم دیا کہ مسلمانوں کی مردم شماری کی جائے۔ یہ بالکل ابتدائی زمانہ کی بات ہے مردم شماری کی گئی تو صحابہ کی تعداد سات سو نکلی۔ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی حضور نے مردم شماری کیوں کرائی ہے کیا آپ کا خیال تھا کہ ہم تباہ نہ ہو جائیں اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ نہیں کر ال صحابہ سات سو تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی اس تعداد کو بہت بڑی تعداد سمجھتے تھے اور حیران ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے کہ اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ نہیں کر سکتی۔ آج مسلمان سات سو نہیں صرف ہندوستان میں سات کروڑ سے بھی زیادہ ہیں مگر پھر بھی ڈرتے ہیں۔ صحابہ باوجود قلیل التعداد ہونے کے دنیا کی طاقتوں سے کیوں نہیں ڈرتے تھے اور اس ملک کے مسلمان سات کروڑ سے بھی زیادہ ہو کر دنیا کے ادنی لوگوں سے کیوں ڈر رہے ہیں۔ یہ ایک سوال ہے جو بالطبع یہاں پیدا ہوتا ہے مگر اس کا حل نہایت آسان ہے اور وہ یہ کہ وہ خدا کے ہو چکے تھے اور خدا ان کا ہو چکا تھا اس لئے خدا ان کی ہر موقع پر مدد اور حفاظت فرماتا تھا مگر مسلمان آج خدا کے ساتھ تعلقات توڑ چکے ہیں اس لئے اس نے بھی ان کی طرف سے منہ موڑ لیا سکتی۔ ا