انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 470

انوار العلوم جلد 9 ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل رسمیں اور ان کے رواج تھے اس وقت تک سب وہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ جب یہ سب باتیں موجود ہیں تو پھر ماننا پڑتا ہے کہ اسلام نے جبر سے کام نہیں لیا بلکہ وہ امن کا حامی رہا اور امن کی تعلیم دیتا رہا۔ زمانوں میں ہی نہ تھی اب بھی موجودہ اسلامی حکومتوں کا طریق کار یہ بات پہلے زمانوں میں ہی نہ جہاں جہاں اسلامی حکومتیں ہیں وہاں یہی بات ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ جو اور قومیں وہاں آباد ہیں انہیں ہر قسم کے جائز حقوق حاصل ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی مدد اور مناسب دادرسی کی جاتی ہے۔ چنانچہ حال میں سرحد پر ایک تازہ واقعہ ہوا۔ جو اس بات کی دلیل ہو سکتا ہے کہ اسلام جبر کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہاں ایک ہندو شخص ٹیک چند زرگر مارا گیا۔ نواب انب نے مارنے والوں کے گاؤں پر حملہ کر کے ایک سید اور ایک اور شخص کرامت علی کو مار دیا۔ باوجود اس کے کہ پٹھان اُجڈ اور اکھر مشہور ہیں ابھی تک ان میں یہ احساس موجود ہے کہ ماتحت غیر قوموں اور ان کے مذہب اور رسم و رواج کی حفاظت اور عزت کرنی چاہئے اور افغانستان میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ گو ہمارے لئے امن نہیں لیکن غیر مسلموں کے لیے ہے۔ اور ہم دکھا سکتے ہیں کہ ہندو افغانستان کے اندر امن سے آباد ہیں۔ پس جب ہر اس جگہ کہ جہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی غیر قوموں پر کوئی خبر نہیں کیا گیا تو ہندوستان کے متعلق بر خلاف شہادت کی موجودگی میں ہم کیونکر مان سکتے ہیں کہ مسلمان حکمران ہندوؤں پر جبر کرتے تھے۔ پس اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا تو وہ شخصی اور انفرادی تھا اور انفرادی واقعات کو قومی قرار دے کر قوم کی قوم کو ملزم قرار دینا کہاں کی عقلمندی اور کہاں کا انصاف ہے۔ ہر بات کے کچھ شواہد ہوتے مسلمانوں کے جبر کرنے کا قصہ ہی غلط ہے جب اسے اس کی معرفت ہوتی ہیں ہے اسی طرح جبر کے بھی شواہد ہیں۔ اب جس قوم میں اس کے شواہد پائے جائیں وہی جبر کرنے والی ہو گی۔ مسلمانوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جبر کیا۔ میں نے ان شواہد میں سے بعض کو پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان میں سے مسلمانوں کے ہاتھ سے کوئی بھی بات پیدا نہیں ہوئی۔ یعنی ہندوؤں کو مذہب تبدیل نہیں کرنا پڑا، انہیں مذہب چھپانے کی بھی ضرورت پیدا نہیں ہوئی، ان میں اپنی ابتدائی رسمیں اور رواج بدستور جاری رہے ، ان کو اپنا وطن بھی نہیں چھوڑنا پڑا تو معلوم ہوا ان پر جبر نہیں ہوا۔ یہ صرف مسلمانوں کے برخلاف شور برپا کرنے کے لئے ایک بات پیدا کر لی