انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page v

الثانی نے اس پر کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہ فرمایا جیسا کہ مسلمانان ہند کر رہے تھے۔ بلکہ فرمایا : ” میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا اپنے سردار حضرت محمد مصطفیٰ سلیم کی ہتک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو قرار نہیں دیتا میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ملی لیہ کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے۔ ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا، میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا۔ میں ایک دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا بلکہ میں اگلے اور پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو جلا دینے کیلئے آیا تھا نہ کہ تارنے کیلئے ، وہ لوگوں کو زندگی بخشنے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کیلئے وہ زمین کو آباد کرنے کیلئے آیا تھا نہ کہ ویران کرنے کیلئے ۔ " ९९ (فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض صفحہ 1) چشم فلک ۔ فلک نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ کا ایسا بے نظیر عاشق کہاں دیکھا ہو گا؟ کہیں نہیں ہرگز کہیں نہیں۔ ان باتوں میں عشق کی والہانہ شیفتگی بھی ہے اور گہری محبت بھی مگر کسی بھی مرحلے پر یہ غیر معمولی محبت عقل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی۔ یہ مقام اس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جس کا راہنما خود خدا ہو جس کو خدا نے اپنی تقدیر خاص سے اس وقت دنیا کی اصلاح پر خود مقرر فرمایا ہو۔ بلا شبہ حضرت مصلح موعود کا یہی مقام تھا۔ اس جلد میں ایک اہم کتاب "منہاج الطالبين" ہے جو جلسہ سالانہ ۱۹۲۵ء کی دو تقاریر پر مشتمل ہے اس میں حضور نے نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں وہ طریق بتائے ہیں جن سے انسان گناہوں سے پاک ہو سکتا ہے اور نیکیوں کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ ایک خاص کتاب مذہب اور سائنس" ہے یہ لیکچر حضور نے سائنس یونین اسلامیہ کالج لاہور لاہور کی درخواست پر ۳ مارچ ۱۹۲۷ء کو جبیبیہ ہال میں دیا۔ تقریب کی صدارت علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے کی۔ حضور نے یہ بنیادی نکتہ بتایا ہے کہ مذہب اور سائنس میں مقابلہ ہی کوئی نہیں کیونکہ مذہب خدا کا کلام ہے اور سائنس خدا کا فعل اور