انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 459

انوار العلوم جلد و ۴۵۹ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل شریف کی اس تعلیم کو دیکھے گا تو پھر وہ کسی قوم یا کسی ملک کے بزرگ کو بھی بڑا نہیں کہہ سکتا۔ ہندو قوم میں کوئی بزرگ ہو یا عیسائی یا یہودی قوم کا اس تعلیم کے ماتحت ایک مسلمان کسی کو بڑا نہیں کہہ سکتا۔ یہی حال ہر ملک کے بزرگوں کا ہے کہ انہیں مسلمان بڑا نہیں کہہ سکتے۔ خواہ کوئی شخص فرانس میں گزرا ہو، خواہ جاپان میں، خواہ جرمنی میں، خواہ روس میں، خواہ ایران میں، خواہ افریقہ میں، خواہ امریکہ میں غرض کسی جگہ کا ہو جسے اس کے ملک کے لوگ بزرگ قرار دیتے ہیں اسے مسلمان اگر سچا نہیں سمجھتا تو اسے بڑا بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں شاید یہ بزرگ ان نبیوں میں سے ہی ہو۔ پس میں آج یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں عقید تا کسی ایسے شخص کو جسے اس کی قوم یا اس کا ملک نبی بتاتا ہے بڑا نہیں کہہ سکتا اور اس کی ہتک نہیں کر سکتا کیونکہ ممکن ہے وہ نبی ہو اور میں اس کی ہتک کروں تو خدا تعالیٰ کے سامنے مجھے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ پس میں ہتک کر ہی نہیں سکتا بلکہ ہتک کرنا تو دور کی بات ہے میں ایسے سب لوگوں کی عزت کرتا ہوں کیونکہ خدا کانور جس قوم میں چاہے چمکتا ہے اس لئے میں اس کے جلوے کا احترام کرتا ہوں۔ قرآن شریف کی تعلیم کے لحاظ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے لئے کسی دوسرے مذہب والوں کی ہتک کرنے کا دروازہ ہی بند ہو گیا ہے۔ کسی کے مذہبی بزرگ کو برا نہ کہو جو باتیں میں نے بیان کی ہیں۔ اگر ہر ایک کی سمجھ میں آجائیں اور ہندو بھی اس بات پر عمل کرنا شروع کر دیں کہ کسی کے مذہبی بزرگ کو بڑا نہ کہیں تو مذہبی رواداری پیدا ہو سکتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے بزرگوں کو بڑا کہتے ہیں وہ اتنا تو سوچیں کہ اگر وہ دوسروں کے بزرگوں کی ہتک نہ کریں تو ان کا کیا نقصان ہوتا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ دوسرے کا دل دکھا کر اپنا مطلب پورا کیا جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک سے ہندو مسلم سوال مٹ جائے ار وہ اس طرح ہندو مسلم سوال میں کبھی مٹ سکتا ہے کہ ہندو بھی اسی قسم کی رواداری کو اپنا شعار بنالیں جس قسم کی رواداری کی مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے۔ میں نے جو یہ کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک سے ہندو مسلم سوال اُٹھ جائے اس سے میری غرض اس اصل کی طرف اشارہ کرنا نہیں کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں اور پھر مسلمان یہ بالکل بیہودہ بات ہے اور کسی حقیقت پر اس اصل کی بنیاد نہیں ہے اور اس اصل کے ماتحت مذہب کی بنیاد ہی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اصل میں اس فقرہ کی کہ میں پہلے