انوارالعلوم (جلد 9) — Page 457
انوار العلوم جلد 9 لدود ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل میں نے فسادات کی اصل وجہ بیان کرتے وقت ایک وجہ مذہبی رواداری مذہبی رواداری کا فقدان بتائی تھی اور بتایا تھا کہ جس طرح سیاسی سیاسی رواداری کا مادہ ملک میں نہیں رہا اسی طرح مذہبی رواداری کا جذبہ بھی مفقود ہو گیا ہے۔ سیاسی رواداری کے متعلق اسلام کی جو تعلیم تھی اس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں کہ مسلمان حکومتوں میں یہودی، عیسائی، ہندو اور دوسری اقوام کے لوگ اعلیٰ اعلیٰ عہدوں پر مقرر کئے گئے اور مطلقاً اس بات کا خیال نہ کیا گیا کہ وہ حکمرانوں کی اپنی قوم کے نہیں۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مذہبی رواداری کے متعلق اسلام کی کیا تعلیم ہے اور اس تعلیم کے مطابق ایک مسلمان کہاں تک دوسری اقوام سے نیک سلوک کرنے کے لئے مجبور ہے۔ مذہبی رواداری کی اسلام میں اس قدر مضبوط بنیاد موجود ہے جس کی نظیر کسی اور جگہ نہیں پائی ۔ پائی جاتی۔ دوسرے لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک دوسرے کو جھوٹا ثابت نہ نا ثابت نہ کر لیا جائے۔ اپنی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی مگر اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔ اسلام جہاں اپنی خوبیوں کو پیش کرتا ہے وہاں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہر قوم جو زمین پر قائم ہوئی اس میں کوئی نہ کوئی خدا کا نبی آیا۔ جیسا کہ فرماتا ہے ان منْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ ہر قوم میں نذیر آیا۔ اب دیکھو کتنا بڑا فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں۔ دوسرے مذاہب یہ ہرگز نہیں سکھاتے کہ ان کے سوا کسی اور قوم میں بھی نبی آئے لیکن یہ اسلام کی تعلیم ہے جو بتاتی ہے کہ تمام قوموں میں نبی آتے رہے ہیں۔ اب اس تعلیم کے ماتحت مسلمان اس بات کے پابند ہیں کہ ہیں کہ ہر قوم میں نبی مانیں اور جب وہ ہر قو ہر قوم میں نبی مانیں گے تو پھر کیا وہ کسی قوم کو کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا نبی جھوٹا تھا۔ اگر کوئی ایسا کیے تو وہ اس نبی کو ہی جھوٹا نہیں کہے گا بلکہ قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلائے گا۔ دیکھو ایک عیسائی اطمینان کے ساتھ گندے سے گندے الفاظ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر سکتا ہے لیکن ایک مسلمان گھر میں بھی اور باہر بھی "مسیح" کو حضرت عیسی علیه السلام کر کے پکارے گا یعنی حضرت عیسی پر سلامتی ہو اور بر برکتیں نازل ہوں۔ یہ اسلام اس ہی کی تعلیم کا اثر ہے کہ عیسائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں لیکن ہم حضرت عیسی عَلَيْهِ السَّلام پر درود بھیجتے ہیں۔ یہی حال ہندوؤں اور دوسرے مذہب والوں کا ہے کہ وہ تو ہمارے انبیاء کو گالیاں دیتے اور بڑے الفاظ بولتے ہیں مگر ایک مسلمان ان کے سب پیشواؤں کی عزت کرتا ہے اور ان کے لئے عزت اور ادب کے الفاظ استعمال کرتا ہے کیونکہ جب قرآن کریم کہتا ہے وان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذیر تو ہر مسلمان کو ماننا پڑے گا کہ ہندوؤں میں بھی نبی گزرے کیونکہ ہندو