انوارالعلوم (جلد 9) — Page 453
انوار العلوم جلد 9 ۴۵۳ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل سکتا ہے لیکن وہ قوم کیا لیاقت حاصل کر سکتی ہے جس کے لئے تعلیمی راستہ ہی نہ کھلا ہو۔ میں اس بات کو ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے افراد لیاقت پیدا کریں۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایک قوم کے لئے بغیر حکومت میں مناسب حصہ پانے کے ترقی ہی نا ممکن ہوتی ہے اور دوسری قوم اس قدر ترقی کر چکی ہوتی ہے کہ بغیر خاص مدد کے پہلی قوم قدم آگے کو نہیں اٹھا سکتی۔ اور اس وقت ترقی یافتہ قوم کا فرض ہوتا ہے کہ وہ وطنی جذبہ کا اظہار کرے اور نہ صرف یہ کہ پیچھے رہی ہوئی قوم کو اس کا حق دے بلکہ اسے رعایت دے تاکہ وہ بھی ترقی کر سکے۔ یہی صحیح جذبہ رواداری کا ہے جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور نہ اس کے بغیر امن ہو سکتا ہے۔ ایک ملک کی مختلف قوموں کی مثال ایک سڑک کی ہے جس پر مختلف لوگ چل رہے ہوں بیشک راستہ میں ہر ایک شخص کو خود ہمت کر کے آگے بڑھنا چاہئے لیکن جب یہ صورت پیدا ہو جائے کہ کچھ لوگ راستہ میں دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے ہوں تو پچھلوں کے لئے آگے بڑھنا بالکل نا ممکن ہو گا ان کی سب کو ششیں اکارت جائیں گی۔ پس اس وقت اگلی قوم کا فرض ہو گا کہ وہ بیشک آگے کو چلے لیکن سارا راستہ نہ روکے دوسروں کے آگے بڑھنے کے لئے بھی راستہ چھوڑ دے ورنہ پسماندہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ جمہوریت کے نہ ہونے کے نقصان سیاسی رواداری کا یہ فقدان ہمارے ملک میں اس سبب سے ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کبھی قائم نہیں ہوئی۔ ہندو راجے بھی یہاں ہوئے اور مسلمان بادشاہ بھی یہاں گزرے مگر سب کی حکومت قومی ہوا کرتی تھی۔ یعنی کیا ہندو اور کیا مسلمان دونوں کی حکومتیں رہی ہیں مگر وہ بادشاہوں کی حکومتیں تھیں۔ ہندوؤں میں سے عام طور پر راجپوت حکومت کرتے رہے ہیں۔ اس وقت گویا راجپوتوں کی قومی حکومت تھی۔ ان کے سوا جو قومیں ہندوؤں کی تھیں ان کے لئے ترقی کے کوئی سامان راجپوت قوم کی طرف سے نہ کئے جاتے تھے۔ اسی طرح مسلمانوں کی اگر حکومت اس ملک میں قائم ہوئی تو اسے ایک لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ مغلوں کی تھی یا پٹھانوں کی تھی کیونکہ ان میں سے بعض ایسے تھے جو مغل بادشاہ تھے اور بعض ایسے پٹھان بادشاہ تھے نہ کہ ملکی بادشاہ تھے اس وجہ سے باوجود سینکڑوں سال تک بڑی بڑی حکومتوں کے قائم ہونے کے ہر قوم کا ہر بادشاہ سمجھتا تھا کہ مجھے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تلوار اور جتھے کی ضرورت ہے۔ اور جب ایک بادشاہ کو اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تلوار اور جتھے کی ضرورت ہو لازمی طور پر یہ بات پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ