انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 451

انوار العلوم جلد 9 ۴۵۱ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل ایسی تھی جیسے دو زمیندار جو آپس میں بھائی ہوں اور جن میں جائداد تقسیم کر دی گئی ہو وہ کھیت کے کسی منڈیر کے لئے لڑ پڑیں۔ ایک کے یہ حصہ میرا ہے دوسرا کے میرا۔ اس موقع پر ان کا باپ اگر انہیں کے خبردار مت لڑو نقصان اٹھاؤ گے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ باپ کی نصیحت سن کر رو بھی پڑیں اور بغیر اس کے کہ وہ باپ سے پوچھیں کہ ہم صلح کن اصول پر کریں وہ آپس میں گلے مل جائیں۔ لیکن گو وہ بظاہر صلح کر لیں گے لیکن ان میں سے ہر ایک دل میں یہ خیال کرے گا کہ ہمارے باپ کا مطلب یہ تھا کہ میرا دوسرا بھائی مجھ پر ظلم نہ کرے ! نہ کرے اور اب امید ہے کہ اس صلح کے بعد وہ میرا حق مجھے دے دے گا اور وہ دل میں خوش خوش چلا جائے گا کہ اب متنازعہ زمین مجھے مل جائے گی۔ اس کے بعد جب ان دونوں میں سے کوئی متنازعہ فیہا حصہ زمین میں ہل چلائے گا تو دوسرا لٹھ لے کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا عجیب احمق ہے کہ ابھی باپ نے سمجھایا اور اس کے سامنے فیصلہ کر کے آیا ہے اور ابھی اس کے خلاف کر رہا ہے۔ اس طرح پہلے سے بھی زیادہ زور سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔ ایسی صلح در حقیقت نئے فساد کی وجہ بن جاتی ہے اور اس سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ چونکہ ان مجالس میں جو لیڈروں کی طرف سے قائم کی جاتی ہیں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تھا کہ ہندو مسلمانوں کے مطالبات کیا ہیں، جھگڑا کن باتوں پر ہے اور ان کے متعلق صفائی کس طرح ہو سکتی ہے اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگ جلسوں کو چھوڑ کر گھروں میں گئے تو ہندوؤں کے جو مطالبے مسلمانوں سے تھے ان کے متعلق ہندوؤں نے سمجھ لیا اب وہ پورے ہو گئے اور مسلمانوں کے جو مطالبات ہندوؤں سے تھے ان کے متعلق مسلمانوں نے سمجھ لیا چونکہ لیڈروں نے اب صلح کرادی ہے اس لئے وہ پورے ہو جائیں گے۔ مگر جب ہندوؤں نے اپنے حقوق کا مطالبہ مسلمانوں سے کیا اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ ہندوؤں سے کیا تو دونوں کا غصہ اور بھی بڑھ گیا کیونکہ ہر ایک صلح کا مفہوم یہ خیال کرتا تھا کہ اب دوسرا اپنا مطالبہ چھوڑ دے گا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے سے بھی زیادہ فساد پیدا ہو گیا۔ ہندو مسلمان دھوکا کھا گئے حقیقت یہ ہے کہ لیڈروں کے صلح کے اعلانات ہے پبلک اس دھوکا میں آگئی کہ صلح ہو گئی حالانکہ یہ کوئی صلح نہ تھی بلکہ یہ تو ایک قسم کی لڑائی تھی۔ اس طرح جب بھی کیا جائے گا اس سے پہلے کی نسبت زیادہ فساد ہو گا کیونکہ یوں اپنے حق کے لئے لڑنیوالوں کو اگر کسی وقت سمجھایا جائے تو کچھ نہ کچھ سمجھ سکتے ہیں لیکن جہاں یہ سمجھ لیا گیا ہو کہ ہمیں صلح کے پردہ میں دھوکا دیا گیا وہاں لڑائی کا کم ہونا مشکل ہوتا