انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 449

انوار العلوم جلد 9 ۴۴۹ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل ہوئے ہیں اور اپنی نظروں میں بھی گرے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنی حالتوں پر جیسا کہ چاہئے غور نہیں کرتے۔ اگر ہم غور کریں تو صاف نظر آجائے کہ ہم سخت گرے ہوئے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد شورشوں کا شکار بن جاتے ہیں غلط کو ششیں ملک میں جو کچھ عرصہ سے ، فسادات ہو رہے ہیں ان کے دور کرنے کے لئے جو کوششیں اس وقت کی گئیں اور جس رنگ میں سعی کو کام میں لایا گیا جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہی معلوم ہوا ہے کہ وہ صحیح نہیں۔ وہ کوششیں غلط راستوں پر لے جاتی ہیں جن پر چلنے سے فسادات بڑھا کرتے ہیں مٹا نہیں کرتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہوتا اور صحیح علاج کے لئے صحیح تشخیص کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ جہاں صحیح تشخیص نہیں ہوتی وہاں صحیح علاج بھی نہیں ہوتا۔ جب ہم ان کوششوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو اس ملک سے فتنہ و فساد مٹانے کے لئے کی گئیں تو کہنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح تشخیص پر مبنی نہیں تھیں۔ چونکہ فسادات کی اصل وجہ ہی کی تشخیص نہیں کی گئی تھی اس لئے یہ ممکن نہ تھا کہ جو کوششیں فسادات کے مٹانے اور صلح کے پیدا کرنے کے لئے کی گئیں وہ کامیاب ہوتیں۔ سو ایسا ہی ہوا۔ سال دو سال کے لئے بظاہر امن کی صورت اور صلح کا رنگ پیدا ہو گیا مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسی کوششیں صحیح اور درست طریق پر نہ تھیں اور ان کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسی مرض کی تشخیص کئے بغیر اس کے علاج کرنے کی سعی کی جائے اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ عارضی خاموشی رہی پھر فسادات بڑھ گئے اور وہ بات جو صلح کی شکل میں نظر آرہی تھی مٹ گئی اور باوجود تین چار سال تک وقت، طاقت، اثر اور روپیہ استعمال کرنے کے بھی اسے قائم نہ رکھا جا سکا اس تک صلح کے لئے جو دو کے لئے جو دو طریق استعمال کئے گئے ہیں وہ صلح کے دو نا کام طریق الا دوست تھے۔ ان میں سے اتری توی تا کہ میں ہے ہے: یہ ملک کے سیاسی لیڈر جمع ہو جاتے اور کہہ دیتے آؤ صلح کر لیں۔ جب ان کا آپس میں سمجھوتہ ہو جاتا تو اعلان شائع کر دیتے کہ صلح ہو گئی ہے۔ حالانکہ لیڈروں کے درمیان تو لڑائی پہلے سے ہی نہ تھی اور نہ ہی لیڈروں کے درمیان لڑائی ہوا کرتی ہے۔ لڑتے تو عام لوگ ہیں۔ وہ سیاسی لیڈروں کے ایسے اعلانات کے باوجود کہ صلح ہو گئی ہے پھر بھی لڑتے رہے کیونکہ لڑائی محمد علی و شوکت علی صاحبان۔ گاندھی جی اور پنڈت مالویہ کے درمیان نہ تھی۔ لڑائی تو عوام کے درمیان تھی اور یہ نا ممکن ہے کہ لڑیں تو عوام اور صلح کریں لیڈر۔ اس طرح کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔ غرض چونکہ لیڈروں میں لڑائی