انوارالعلوم (جلد 9) — Page 439
انوار العلوم جلد 9 تیسرادن خطاب حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی ( فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۲۶ء) تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء بیش قیمت وقت کو ضائع مت کرو میں اپنی اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے چند امور کا بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اول تو یہ کہ میں ان دوستوں کو جو یہاں کر بھی اس جلسہ کے موقع پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور تقریروں کے سننے میں پورا حصہ نہیں لیتے ملامت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کل اپنی تقریر کے آخری حصہ میں دیکھا کہ دو ہزار کے قریب دوست قریباً ساڑھے پانچ بجے جلسہ گاہ سے اٹھ کر گئے اور ساڑھے سات بجے تک ان کو واپس آنے کی توفیق نہیں ہوئی جو نہایت قابل افسوس بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لمبی دیر تک بیٹھنا گراں ہوتا ہے اور انسان دیر تک بیٹھنے سے اگتا جاتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دیر تک بولنا اس سے بھی بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ پھر اگر ایک شخص با وجود صحت کے نہایت کمزور ہونے اور اس عضو کے ماؤف ہونے کے جس پر کام کا دار ومدار ہے متواتر چھ گھنٹے تک بول سکتا ہے تو میں ہر گز یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ دوسرا آدمی اس سے زیادہ دیر تک سننے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا۔ آخر سامنے گیلریوں پر بیٹھنے والے اور سٹیج پر بیٹھنے والے بھی تو شروع سے آخر تک اطمینان سے تقریر سنتے رہے حالانکہ سٹیج پر بیٹھنے والے ہوجہ جگہ کی تنگی کے بہت تنگی سے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض دوست جو بنچوں پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اُٹھ کر چلے گئے۔ شاید وہ بینچوں پر بیٹھنا اسی لئے پسند کرتے ہیں کہ اپنی مرضی سے درمیان میں چلے جایا کریں اور اپنے وقت کو ضائع کریں۔ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ جو شخص اپنے وقت اور مال کو خرچ