انوارالعلوم (جلد 9) — Page 426
انوار العلوم جلد 3 ۴۲۶ نقاریی جلسه سالانه ۱۹۲۶ء ضائع ہوں کیونکہ خلافت کے عہدہ کے لحاظ سے بڑی عمر کے لوگ بھی میرے لئے بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی باپ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بیٹا بھی ضائع ہو۔ میں تو ہمیشہ یہی خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی ہر ابتلاء سے ہمیشہ دوستوں کو محفوظ رکھے۔ مجھے تو اللہ تعالٰی نے ایسا وسیع دل دیا ہے کہ میں دشمن کے لئے بھی بد دعا کرنا پسند نہیں کرتا۔ ایک شخص نے کہا کہ مولوی ثناء اللہ کے لئے تم بد دعا کیوں نہیں کرتے۔ میں نے کہا مجھے اللہ تعالی نے بہت بڑا دل دیا ہوا ہے۔ تو جو شخص دشمنوں تک کے لئے بد دعا نہیں کرتا وہ دوستوں کے لئے کیا کیا دعائیں کرتا ہو گا۔ خدا کے حضور جھکو۔ دعاؤں میں گریہ و زاری کرو تا تم پر خدا کی طرف سے برکات نازل ہوں۔ تقوی اختیار کرو۔ تقویٰ کے قیام کے لئے نماز اور نماز باجماعت کی پابندی ضروری ہے۔ میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ نماز کے لئے جماعت کی پابندی ضروری ہے۔ اگر دوست دو تین میل کے فاصلے پر بھی ہوں تو بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرالیا کریں۔ اور دفتروں میں ایک جگہ اکھٹے ہو کر یا جماعت ادا کریں۔ دسویں نصیحت یہ ہے کہ تقوی کے قیام کے لئے معاملات کی درستگی بھی نہایت ضروری ہے۔ بعض دوست معاملات میں درستی کا خیال نہیں رکھتے۔ بعض لوگ روپیہ قرض پر لیتے ہیں پھر ادا کرنے میں نہیں آتے۔ اس کے نتیجہ میں بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ قرض خواہ مظلوم ہوتا ہے اسے دور کی سوجھتی ہیں۔ اور ایک بات پر سب کو قیاس کر لیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ ایک حجام کو روپیوں کی تھیلی ملی۔ وہ اُمراء کی مجلس میں جایا کرتا تھا۔ اس کے پاس تھیلی دیکھ کر اُمراء ہنسی سے پوچھا کرتے۔ سناؤ شہر کی کیا حالت ہے۔ وہ کہتا کوئی کم بخت بھی تو ایسا نہیں جس کے پاس کم از کم پانسو اشرفی نہیں۔ ایک دن ایک امیر نے اس کی تھیلی نہنسی سے اٹھالی۔ کچھ دن بعد امیر نے پوچھا سناؤ شہر کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا شہر کی کیا پوچھتے ہو شہر کا برا حال ہے سب لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ امیر نے تھیلی واپس دے کر کہا لو بھائی اپنی تھیلی پاس رکھو شہر نہ بھوکا مرے۔ اس مثال سے انسانی دماغ کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ اس پر جو گزرے وہ سمجھتا ہے کہ یہی حال سب کا ہے اس لئے جس کے ساتھ معاملہ اچھا نہ ہو وہ یہ قیاس کر لیتا ہے کہ سب کا ایسا ہی حال ہے یہاں تو بھائی سب بد معاملہ ہیں۔ مگر قرض خواہوں کے لئے بھی مناسب ہے کہ درگزر سے کام لیں اور سب پر ایک بات کا قیاس نہ کر لیا کریں کیونکہ جو بات قوم میں پھیلائی جائے وہ خواہ قوم میں پہلے نہ بھی ہو تو بھی وہ قوم میں پیدا ہو جاتی ہے اسی لئے قرآن کریم نے بدی کی اشاعت سے منع کیا ہے۔ ہے مثلاً