انوارالعلوم (جلد 9) — Page 424
انوار العلوم جلد 9 ۴۲۴ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء ابراہیم یا موسیٰ ہے۔ تو کیا کچھ ملتا بھی ہے یا نہیں؟ جو (سیدنا) محمد ال پر انعام ہوئے وہ تمہیں بھی ملتے ہیں یا نہیں؟ اس نے کہا کہ ملتا تو کچھ نہیں۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ یہ پھر خدا کی طرف سے الہام نہیں یہ کسی اور ہستی کی طرف سے ہے۔ خدا تعالی کی طرف سے جب الہام ہوتا ہے تو اس کے مطابق ملتا بھی ہے۔ خدا دنیا کی گورنمنٹ کی طرح تو نہیں۔ خدا میں تو سب طاقتیں ہیں۔ کبھی کوئی خالی ہاتھ بھی کہا کرتا ہے کہ یہ چیز لو۔ وہ تو بچے ہنسی سے کیا کرتے ہیں۔ یہ شیطانی بات ہے خدائی الہام نہیں۔ خدا اگر کہتا کہ تو محمد ہے تو تجھے محمد والی طاقتیں بھی دیتا۔ تو اللہ تعالی کی طرف سے مؤمن کو ولی کا خطاب ملتا ہے۔ اب کیا یہ خطاب یو نہی مل جائے گا۔ اگر معمولی بات سے یہ خطاب ملنے لگے تو پھر تو کنچی بھی ولی ہو سکتی ہے جو ایک مسجد بنا چھوڑے۔ پس خدا کے قرب کے لئے ایک چیز کی قربانی نہیں ہوتی اور نہ ایک وقت میں قربانی ہوتی ہے بلکہ ہر وقت ہر چیز کی قربانی کی جائے۔ تب جا کر خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ آخر سوچو تو سہی تم نے بنا کیا ہے؟ خدا کا درباری۔ کیا یہ عہدہ کوئی معمولی عہدہ ہے۔ اس سے سمجھ سکتے ہو کہ اس عہدہ کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ میں نے بچوں کو بتایا تھا کہ جب گاؤں میں ڈپٹی کمشنر آتا ہے۔ تو تم کس طرح اس کے دیکھنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے پھرتے ہو۔ اور تم بڑے خوش ہوئے ہو اور فخر سے اپنے دوستوں کو سناتے ہو کہ میں نے ڈپٹی کمشنر کو دیکھا ہے حالانکہ وہ تمہاری طرف کبھی نظر نہیں اٹھاتا۔ اور اگر وہ کسی بچہ سے کوئی بات کرے تو پھر تو وہ بچہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ وہ یوں سمجھتا ہے کہ گویا اسے بڑی نعمت مل گئی ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں نماز کیا ہے۔ نماز ہے خدا کے حضور حاضر ہو کر اس کی زیارت کرنا اور اس سے باتیں کرنا۔ تمہارے اندر اس نماز سے کیوں نہیں خوشی پیدا ہوتی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ اس مثال سے بچوں کے چہروں پر بشاشت تھی۔ آپ لوگ ایسی جماعت میں سے ہیں کہ جس کا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ اس میں ہمیشہ ایک قائم مقام رہا جس کی اطاعت فرض ہے وہ جس چیز کے لئے کہہ دے کہ فلاں جگہ پر اسے خرچ کرو تو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اسے دوسری جگہ پر خرچ کرے۔ فتح مکہ پر رسول اللہ ا نے مکہ والوں کو مال دیئے تو انصار میں سے ایک نوجوان نے غلطی سے کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال رسول اللہ کے ہم وطن لے گئے ہیں۔ رسول الله ل تک یہ بات پہنچ گئی۔ آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا۔ تم نے یہ بات کہی ہے۔ انصار دیندار تھے ان کی چھینیں نکل گئیں۔ انہوں نے