انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 419

انوار العلوم جلد 8 ۴۱۹ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء آخر وہ بھی اس وہم میں مبتلاء ہو گئی اور اس غلام سے کہنے لگی۔ اس کا علاج کیا ہے۔ اس نے کہا کہ علاج یہ ہے کہ آپ کے خاوند کے ڈاڑھی کے دو بال ہوں جن سے تعویذ بنایا جاوے۔ تب اس کا یہ خیال جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ کیونکر ممکن ہے۔ غلام نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے جب وہ سو رہا ہو تو اُسترے سے دو بال اُتار لیں۔ عورت اس کام کے لئے تیار ہو گئی۔ خاوند گھر میں آیا۔ رات کو عمداً ایسے طور پر لیٹ گیا کہ گویا وہ سور رہا ہے۔ اب اس کی بیوی نے اُسترالیا اور خوب تیز کیا۔ اس کا گردن کے پاس لانا تھا کہ خاوند نے اسی اُسترے سے بیوی کو غضب میں آکر قتل کر دیا۔ خیر جب وہ پکڑا گیا اور اس سے قتل کا سبب پوچھا گیا تو اس نے وہی ظنی سبب بتایا جو غلام سے سنا ہوا تھا۔ تحقیقات پر عورت بری ثابت ہوئی۔ تب آقا نے غلام سے کہا تو نے یہ کیا حرکت کی۔ غلام نے عرض کی حضور سے میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ سال میں ایک جھوٹ بولا کرتا ہوں اور وہ یہی جھوٹ تھا۔ اب دیکھو ظن کی بناء پر کیا کچھ ہوا۔ کوئی قوم جیت نہیں سکتی جس میں بد ظنی کا مادہ ہو کیونکہ اس صورت میں کام ہونا محال ہوتا ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک دفعہ نابینا اور سوجا کھا دونوں کو اکٹھا کھانا کھانے کا موقع پیش آگیا۔ نا پینا حریص تھا پہلے تو اس نے جلدی جلدی کھانا شروع کیا۔ پھر اسے خیال ہوا کہ یہ سوچا کھا تو مجھے دیکھ کر جلدی جلدی کھا رہا ہو گا تو دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔ پھر اس پر بھی نہ رہ سکا اس نے خیال کیا کہ ممکن ہے کہ سوجا کھا بھی میری طرح دونوں ہاتھوں سے کھا رہا ہو تو اس نے کپڑے میں کھانا ڈالنا شروع کیا۔ مگر اس پر بھی اکتفا نہ کر سکا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ بھی کپڑے میں ڈال لے گا کھانے کا برتن اٹھا لیا اور کہا تم جاؤ تم تو سارا کھانا ہی کھا جاؤ گے۔ سو جا کھا بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ ہننے لگا کہ یہ کہاں تک پہنچا ہے تو بد ظنی بہت انتہاء پر لے جاتی ہے۔ میں مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ ہم سے بعض نے ناظران سلسلہ کی قربانیاں میں ہی سے کام کیا ہے ایک دوست نے مجھے ید لکھا کہ قادیان میں بڑے بڑے کارکنوں پر اتنا روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آدھی تنخواہ پر ان سے زیادہ لائق آدمی مل سکتے ہیں۔ اب دیکھو یہ ایک ظن ہے جو بہت دور تک پہنچتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمیوں کی لیاقتیں محض ڈگریوں پر نہیں ہوتیں۔ کاموں میں محض ڈگریوں کو ہی نہیں مد نظر رکھا جاتا۔ بعض وقت تجربہ کو دیکھا جاتا ہے۔ بعض دفعہ ذہن رسا دیکھا جاتا ہے۔ محض ڈگری کوئی چیز نہیں۔ خاندانی وجاہت بھی ایک چیز ہے۔ ذہن رسا بھی ایک چیز ہے۔ پھر سوسائٹی بھی