انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 408

انوار العلوم جلد 9 ۲۰۸ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء ہیں جب کہ ہم اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ تو کل دوسروں کو تو ضرور ہی قتل کر کے اسلام کو بد نام کریں گے۔ اور اس پر سوائے سید رضا علی اور محمد علی صاحب کے باقی سب نے نہ صرف خود ہمارے خلاف آواز اُٹھائی بلکہ ہمارے موافق آواز اُٹھانے والوں کو بھی روکا بلکہ خوشی اور مبارکبادی کی تاریں دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خدا کی پیدا کی ہوئی چیز کا مار دینا ہی اچھا فعل ہے۔ خدا نے کہا۔ آؤ۔ ہم تمہارے ہی ہاتھوں اچھا فعل کرا کے تمہارے ہی منہ سے اقرار کرائیں گے کہ یہ بڑا فعل ہے اور تمہیں جھوٹا اور منافق ثابت کریں گے۔ ایک لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہنے والے مسلمان پر پتھر برسائے جاتے ہیں۔ ایک ایک قطرہ خون کا بہا کر ایک ایک دانت توڑا جاتا ہے۔ ایک ایک ہڈی توڑی جاتی ہے۔ یہ موذی محمد رسول اللہ کی گدی پر بیٹھنے کا دعوی کرنے والے مبارکبادی کی تاریں دیتے ہیں۔ آج ان کی شرافت اور دعوی اسلام کہاں سے آگیا اور اُس وقت کہاں چلا گیا۔ تھا۔ اُس وقت ایک مسلمان ایک لا اله الا اللہ کہنے والے کے قتل پر تو درد پیدا نہ ہوا آج ایک ہندو لیڈر پر درد پیدا ہو رہا ہے۔ یہ منافقانہ درد ہے۔ وہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے مرتد کے لئے وہ فتوی دیا تھا کیونکہ وہ اس سے مدت پہلے ہر کافر کے قتل کا فتوی دے چکے تھے۔ پس آج اگر کوئی شردھانند کا قاتل ہے تو وہ عبدالرشید نہیں بلکہ وہ مولوی اور لیڈر ہیں جنہوں نے قتل کے فقہ دیئے اور اگر کوئی قابل سزا ہے تو عبدالرشید نہیں بلکہ وہ مولوی ہی ہیں جنہوں نے انسان کی جان کو بیدردی سے تلف کرنے کے فتوے دیئے۔ فتوے ابن سعود کی حکومت اور اس کے متعلق ہمارا رویہ اس کے بعد میں ایک سیاسی مسئلہ پر کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ عرب اور حجاز میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق ہمارا کیا رویہ ہونا چاہئے۔ اس اختلاف کے باعث نہایت افسوس ناک اور عبرتناک فسادات ہوئے ہیں اس لئے اس مسئلہ کے متعلق جتنا بھی مسلمان فکر کریں انتقاہی تھوڑا ہے۔ یہ معاملہ عجیب عجیب رنگ اختیار کر رہا ہے۔ پہلے جب عرب ترکوں سے علیحدہ ہوئے تو ہندوستان کے مسلمان عربوں کے خلاف ہو گئے اور ابن سعود کے ساتھ تھے اور اس کی تائید میں تھے۔ جب ابن سعود بادشاہ بنا تو اس کے خلاف ہو گئے۔ صحیح واقعات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی بلکہ اسلام کی حفاظت کے لئے وہ اثنائے جنگ میں ترکوں سے علیحدہ ہو گئے۔ اصل بات یہ ہے کہ