انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 405

انوار العلوم جلد 9 ۴۰۵ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء اشاعت میں اپنی عمر کو لگا دیا جس کو غالبارہ سچا سمجھتے تھے۔ ان کا قتل کرنے والا مسلمان ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ میں نے انہیں اس لئے قتل کیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اور میرا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ غازی سیدھا جنت میں جاتا ہے۔ بقول خود کامل سے ایک پستول لایا تھا کہ اس کے ذریعہ ایک کافر کو قتل کر کے خدا کے حضور ثواب حاصل کرے۔ یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ ایک تو شردھانند صاحب آریوں اور پولیٹیکل جماعتوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے دوسرے وہ ایک ہی ہندو تھے جن کو مسجد میں ممبر پر چڑھا کر جہاں خدا کا کلام پڑھا جاتا اور سنایا جاتا ہے مسلمانوں نے ان سے تقریر کرائی۔ اور جس کو اس لئے مسجد میں منبر پر کھڑا کیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد ہو۔ پانچ سال بعد اسی قوم کا فرد اسے قتل کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس قتل کے نتیجہ میں وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔ تو اس لحاظ سے بھی یہ واقعہ اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایک مذہبی فعل ہے۔ کسی فساد یا جھگڑے کی بناء پر نہیں بلکہ اس بناء پر کیا گیا ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے۔ تیسرے اس لحاظ سے یہ واقعہ اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ آریہ سماج کے لیڈر کے قتل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی آج سے ۳۴ سال پہلے شائع کی گئی۔ آپ نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا ہے جس کی آنکھوں ۔ آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے۔ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے۔ اور ایک اور شخص ہے جس کے متعلق وہ پوچھتا ہے۔ اس کا نام آپ کو یاد نہ رہا۔ تو دو شخصوں کے قتل کی پیشگوئی تھی۔ ان میں سے ایک لیکھرام صاحب تھے اور دوسرے کا نام آپ کو اس وقت یاد نہ تھالے عجیب حکمت ہے کہ پہلے شردھانند صاحب کا نام منشی رام تھا اور مارے جانے کے وقت ان کا نام شردھانند تھا۔ اسی وجہ سے حضرت صاحب کو ان کا نام یاد نہ رہا۔ پھر وہ لیکھرام کے بھی قائم مقام ہیں۔ چنانچہ تیج نے لکھا ہے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر جالندھر پہنچی تو سوامی شردهانند صاحب اپنا کام چھوڑ کر لاہور آگئے اور سوامی لیکھرام صاحب کا کام انہوں نے سنبھال لیا۔ بہر حال آریوں میں سے بڑے پایہ کے لیڈر تھے۔ بہت سی باتیں ان کے قتل کی لیکھرام صاحب کے قتل سے ملتی ہیں۔ لیکھرام صاحب ہفتہ کے دن جمعہ و عید سے اگلے روز مارے گئے اور یہ جمعرات کو مارے گئے۔ جو جمعہ کے ساتھ کا دن ہے۔ وہاں بھی قاتل کمبل پوش تھا اور یہاں بھی کمبل پوش ہی ہے۔ وہاں بھی قاتل کو پہلے روکا گیا لیکن اس کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور