انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 382

انوار العلوم جلد ۔ ۳۸۲ حق الیقین میں سے بعض جھوٹی بھی ہوں۔ اور جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں ان کا یہ طریق نہایت عمدہ اور دُور اندیشی پر مبنی تھا پس اگر اس حدیث کے راوی کو گو یہ صحاح میں یا معتبر کتب حدیث میں درج نہیں دیانتدار قرار دیا جائے تو اس کی نسبت میں کہا جائے گا کہ اس نے اپنے مقرر کردہ معیار پر اس حدیث کو صحیح پاکر اسے اپنی کتاب میں درج کر دیا۔ گو ممکن ہے کہ وہ خود بھی اسے جھوٹا سمجھتا ہو۔ اور جیسا کہ قومی قرائن سے ثابت ہے یہ کسی ایسے ہی شیعہ کی بنائی ہوئی ہے جس نے اپنے مذہب کو چھپا کر اپنے عقیدہ کی اشاعت کے لئے جھوٹ کو اپنا شیوہ بنایا ہوا ہو۔ میں اپنے اس خیال کی تائید میں مندرجہ ذیل شہادت پیش کرتا ہوں (۱) یہ حدیث جیسا کہ خود اس کی عبارتوں سے ثابت ہے جھوٹی ہے (۲) جب یہ جھوٹی ہے تو اس کو بنانے والا وہی ہو سکتا ہے جس کو اس حدیث کے مضمون سے فائدہ پہنچ سکتا ہو اور (۳) یہ فائدہ ایک شیعہ کو ہی پہنچ سکتا ہے (۴) پس یہ کسی اہل شیعہ کی بنائی ہوئی ہے۔ اس امر کا ثبوت کہ یہ روایت محض جھوٹی اور بناوٹی ہے مندرجہ ذیل ہے۔ ا۔ اس روایت کی بنیاد اس امر پر ہے کہ حضرت علی کو خواہش خلافت تھی اور وہ اپنے آپ کو اس کا حق دار سمجھتے تھے حتی کہ حضرت عمر کے وقت تک اس کا اظہار کرتے رہتے تھے اور یہ امر روایت و درایتاً بالکل باطل ہے پس معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل جھوٹی ہے کیونکہ واقعات کے بر خلاف ہے۔ در ایتا تو یہ امر اس لئے غلط ہے کہ یہ خیال کر لینا کہ حضرت علی جیسا بہادر اور شجاع انسان | ایک امر کو حق سمجھ کر پھر اس پر خاموش رہے اور رسول کریم ﷺ کی وصیت کو پس پشت ڈال دے اور عالم اسلام کو تباہ ہونے دے بالکل عقل کے خلاف ہے۔ یہ امر ثابت ہے کہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر کی بھی بیعت کی اور پھر حضرت عمر کی بھی بیعت کی اور پھر ان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ایسا ایک شخص جو دوسرے کی غلامی کا جوا اپنی گردن پر رکھ لیتا ہے اور اس کی بیعت میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ وہ دل میں نیابت کو اپنا حق سمجھتا تھا اور حق بھی لیاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ منشائے شریعت کے ماتحت۔ اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہیں کہ وہ شخص اول درجہ کا منافق تھا اور یہ بات حضرت علی کی نسبت امکانی طور پر ذہن میں لانی بھی گناہ معلوم ہوتی ہے کجا یہ کہ اس کے وقوع پر یقین کیا جائے۔ پس حضرت علی کا طریق عمل اس خیال کو باطل کر رہا ہے اور جب کہ عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر