انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 379

حق الیقین ۳۷۹ انوار العلوم جلد 9 نے شفقت امت اور محبت اسلام کے سبب سے آنحضرت کو منع کیا کیونکہ قریش خلافت علی پر اتفاق نہ کرتے اگر وہ خلیفہ ہو جاتے تو اطراف عرب میں (یعنی مہاجرین قریش) شورش کرتے۔ پس آنحضرت نے جان لیا کہ میں اس بھید کو سمجھ گیا جو بات آنحضرت کے دل میں تھی بایں وجہ آنحضرت ساکت ہو گئے اور نام علی کی صراحت نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ حکم جاری ہوا۔ اور اس سے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ (۱) کیا رسول خدا علی کی محبت میں ایسے گرفتار تھے کہ معاذ اللہ حق سے باطل کی طرف میل کر جاتے تھے (۲) اور ایسے کو نہ عقل ( نَعُوذُ بِاللهِ ) کہ جو حضرت عمر کو سو جھتی تھی وہ رسول اللہ کو نہ سوجھتی تھی (۳) پھر حضرت عمر کو تو رسول اللہ اور آپ کی امت پر شفقت مگر خود رسول اللہ کو اپنی امت پر شفقت نہ ہو (۴) حضرت عمر کو گستاخ و بے ادب ثابت کر کے ان کے ایمان کی نفی کی گئی ہے۔ پیشتر اس کے کہ میں ان اعتراضات کا جواب دوں۔ اول تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ترجمہ میں صاحب مصنف نے خیانت سے کام لیا ہے پہلی خیانت تو یہ ہے کہ لَقَدْ كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ أَمْرِ ذَرُو مِنْ قَوْلٍ لَا يُثْبِتُ حُجَّةً کا ترجمہ مصنف نے یہ کیا ہے کہ آنحضرت سے علی کے باب میں چند بار ایسے کلمات نکلے ہیں کہ وہ ثابت نہیں ہوتے؟ ہوتے جس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ گو رسول کریم نے حضرت علی کے حق میں بعض باتیں فرمائی ہیں لیکن وہ غلط ہیں حالانکہ اصل عبارت کے یہ معنے ہیں کہ رسول کریم اللہ کی طرف سے ایسی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو محض اشارات کسی جا سکتی ہیں یا عبارتوں کے ٹکڑے ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی کیونکہ وہ باتیں واضح نہیں ہیں۔ دُرُو مِنْ قَوْلِ کے معنے یا حصہ کلام یا اشارہ کے ہوتے ہیں اسی طرح لا يُثبِتُ حُجَّةٌ کے معنے نہیں کہ وہ کلمات غلط ہیں بلکہ یہ کہ وہ ایسے واضح نہیں ہیں کہ ان سے دلیل پکڑی جاسکے۔ دوسری خیانت مصنف کی یہ ہے کہ انہوں نے وَ لَوْ وَلِيَهَا لَا انتَقَضَتْ عَلَيْهِ الْعَرَبُ مِنْ أطرافها کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اگر وہ خلیفہ ہو جاتے تو اطراف عرب میں (یعنی مہاجرین قریش) شورش کرتے۔ گویا حضرت عمر نے یہ فرمایا تھا کہ اگر علی کو رسول کریم ال خلیفہ مقرر کر دیتے تو مہاجرین ان کا مقابلہ کرتے اور سارے عرب میں شور ڈال دیتے۔ حالانکہ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے۔ اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر علی خلیفہ ہو جائیں تو عرب لوگ چاروں طرف سے ان کی مخالفت شروع کر دیں گے اور اس میں مہاجرین کی مخالفت یا ان کی شورش کا اشارہ بھی نہیں۔ اگر کہا جائے