انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 373

انوار العلوم جلد 9 ۳۷۳ حق اليقين ان کو اخلاق کے خلاف قرار دیتا ہے۔ در حقیقت کسی قوم کی مُردنی کی اس سے بڑھ کر کوئی علامت نہیں کہ اس کے افراد فنون جنگ سے نفرت کرنے لگیں اور ان کو شان کے خلاف سمجھنے لگیں اور جس خاندان سے مصنف ہفوات اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اس کی ہلاکت کی ایک بہت بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ عیش پرست اور نکما ہو گیا تھا اور مجھے تعجب ہے کہ باوجود اس سخت گرفت کے جو مصنف ہفوات کے خاندان پر اللہ تعالی نے کی ہے ان کی حکومت چھین لی ان کا مال چھین لیا ہے ان کی عزت چھین لی ہے ابھی تک ان کے اندر انہی بیگمات کے خیالات جوش مار رہے ہیں جنہوں نے دہلی کی جنگ کے موقع پر بادشاہ کو رو رو کر مجبور کر دیا تھا کہ وہ ان کے مکان کے سامنے سے جو بہترین موقع توپ چلانے کا تھا توپ کو ہٹالے اور اس طرح اپنی بزدلی کا اظہار کر کے اور اس کے مطابق بادشاہ سے عمل کرا کے شاہی خاندان اور دلی کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ اگر شاہی خاندان کی عورتیں فنون جنگ کو دیکھنے کی عادی ہوتیں اگر ان کو جنگی مظاہرات کا معائنہ کرنے کا موقع دیا جاتا اگر وہ اپنے زمانہ کے ہتھیاروں کے استعمال کو دیکھ دیکھ کر ان کی ہیبت کو دل سے نکال چکی ہوتیں تو ایسی بد اندیشانہ حرکات ان سے کیوں ظاہر ہوتیں۔ اور اگر بادشاہ فنون جنگ کے ماہر ہوتے اور ان کی عمر اس قسم کے کاموں میں بسر ہوتی وہ جنگ اور اسکے نتیجہ سے آگاہ ہوتے تو وہ بیگم کی خواہش کو کیوں مانتے؟ وہ اس کی موت کو اس کی خواہش کے پورا کرنے سے ہزار درجہ بہتر سمجھتے کیونکہ ملک کی عزت اور اس کے وقار کے مقابلہ میں کسی فرد کی خواہ وہ بادشاہ کی چہیتی بیوی ہی کیوں نہ ہو کیا قدر ہوتی ہے؟۔ لوگ کہتے ہیں کہ بیگم نے انگریزوں سے ساز باز کیا ہوا تھا اور وہ تکلف سے کام لیتی تھی مگر میں کہتا ہوں اگر جنگی مظاہرات ہوتے رہتے اور تو ہیں دفتی رہتیں اور ان کے دیکھنے اور ان میں حصہ لینے کا بیگمات کو موقع ملتا رہتا تو بیگم یہ بہانہ کیونکر بنا سکتی تھیں کیا بادشاہ اور دوسرے لوگ ان کو یہ نہ کہتے کہ یہ بات تو ہمیشہ تم دیکھتی رہی ہو آج یہ نیا ڈر کہاں سے پیدا ہو گیا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جنگ میں حصہ لینے کے لئے نہیں پیدا کی گئی۔ لیکن عورت کا فنونِ حرب سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ اگر اس کا دل تلوار کی چمک سے کانپ جاتا ہے اور اس کا خون بندوق یا توپ کی آواز کو سن کر خشک ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بچوں کو خوشی سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت کب دے سکتی ہے؟ اور ان کے دل سے ان کے جھوٹے خوف کو کب دور کر سکتی ہے؟ وہی اور صرف وہی عورت جو رات اور دن اپنے زمانہ کے ہتھیاروں کی