انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 361

انوار العلوم جلد 8 ۳۶۱ حق اليقين اٹھا کہ خو محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نماز ٹوٹ گیا۔ کیونکہ کنز (کنز العمال) میں لکھا ہے کہ حرکت کرنے سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس حدیث کو درست سمجھ کر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ يَعضُّ لِسَانَها علیحدہ جملہ ہو یعنی راوی نے حضرت عائشہ سے یہ دو باتیں سنی ہوں کہ آنحضرت روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ کہ آپ اپنی ازواج کی زبان بھی پیار میں چوس لیا کرتے تھے اور اس نے ان کو ایک ہی جملہ : ہی جملہ میں بیان کر دیا۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ آپ بحالت صوم ایسا کیا کرتے تھے۔ پس اس تاویل سے اس حدیث کا مطلب بالکل صاف ہو جاتا ہے اور اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت روزہ میں بوسہ لینا اور پیار سے زبان کا چوسنا ثابت ہوتا ہے افطار میں نہ کہ روزہ میں۔ اگر کہا جائے کہ اگر روزہ کی حالت میں ایسا نہیں کیا گیا تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اسوہ تھے تمام مسلمانوں کے لئے اس لئے آپ کی ہر ایک حرکت کو مسلمان غور سے دیکھتے اور جو نہ معلوم ہوتی اس کے متعلق دریافت کرتے تا اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔ اس وجہ سے آپ کی تمام باتیں احادیث میں بیان کی جاتی ہیں حتی کہ یہاں تک بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ پیار سے کبھی اس جگہ گلاس پر منہ رکھ کے پانی پیتے جہاں رکھ کر آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے پانی پیا ہوتا۔ اور غرض ان احادیث کے بیان کرنے کی یہ ہے کہ تا لوگ عورتوں سے حسن معاشرت کریں اور ان کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے حقوق کو غصب اور ان کی خواہشات کو باطل نہ کریں۔ دوسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ ان احادیث میں یہ بات لکھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ بات مصنف ہفوات کے نزدیک مکروہ ہے اور مکروہ فعل رسول نہیں کر سکتا۔ مجھے تعجب پر تعجب ان مسلمان کہلانے والوں پر آتا ہے جو اپنے پاس سے شریعت بھی بنانے لگتے ہیں۔ یہ کب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ میں بوسہ لینا مکروہ ہے؟ یا آپ کی کس بات سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے ؟ خود ہی ایک مسئلہ گھڑا اور خود ہی اسے رسول پر حاکم بنا دیا جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں مسائل اخلاقیہ ہی صرف ایسے مسائل ہیں کہ جن میں استنباط اور قیاس