انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 355

انوار العلوم جلد 9 ۳۵۵ حق الیقین 7 ببین تفاوت ره از کجاست تا بکجا کاش یہ لوگ دین کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیتے اور خدا تعالیٰ کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کرتے تو نہ یہ خود تکلیف میں پڑتے نہ لوگوں کے ایمان خراب ہوتے اور نہ دشمنوں کو اسلام پر ہنسی اور ٹھٹھا کرنے کا موقع ملتا۔ اور نہ یہ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا کی جماعت میں داخل ہو کر خدا کے غضب کو بھڑ کا لیتے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ یہی لوگ جو گڑیاں کھیلنے کا نام شرک رکھتے اور حضرت عائشہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ا پر بالواسطہ زبان طعن دراز کرتے ہیں قرآن کریم میں جب آنی اَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ن اللہ کے پڑھتے ہیں تو اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ میں مٹی سے پرندے بنا کر ان ؟ بنا کر ان میں پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم کے ماتحت پرندے ہو جاتے ہیں۔ اور نہیں سمجھتے کہ اگر تمثال بنانی شرک ہے تو پھر کیا مسیح علیہ السلام جو ان کے خیالوں کے مطابق پرندے بنایا کرتے تھے مشرک تھے ؟ اگر مسیح علیہ السلام پرندے بنائیں اور ان کو اڑا اڑا کر دکھائیں تو وہ مشرک نہ بنیں اور خود نبی ہو کر ایسی کھیلوں میں مشغول رہیں ( حَا شَا وَ كَلَّا وَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ) تو ان کی ہتک نہ ہو لیکن حضرت عائشہ اگر بچپن کی عمر میں گڑیوں سے کھیلیں تو یہ شرک ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان کو نہ روکیں تو اس سے آیت إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمُ - نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ باطل ہو جائے۔ پھر یہ لوگ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقَدْ وَرِرْسِيتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا وَ قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشكور الى یعنی حضرت سلیمان کے لئے وہ لوگ ان کی مرضی کے مطابق قلعے اور مجتمے حیوانوں کے اور بڑے بڑے برتن حوضوں کی طرح کے اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ ٹکی رہتی تھیں بناتے تھے۔ اے داؤد کی اولاد ! شکر گزاری سے گزر کرو اور میرے بندوں میں سے تھوڑے ہی ہیں جو شکر گزار ہیں۔ لیکن باوجود اس آیت کے پڑھنے کے ہر ایک قسم کا مجسمہ بنانے کو شرک قرار دیتے ہیں اگر ہر ایک قسم کا مجسمہ بنانا شرک ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ کیسا احسان ظاہر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے ایک قوم جانداروں کے مجسمے بنایا کرتی تھی۔ اس صورت میں تو یہ ایک غضب بن جاتا ہے نہ کہ احسان۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ قرآن کریم کو آنکھیں بند کر کے پڑھتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا کر