انوارالعلوم (جلد 9) — Page 340
انوار العلوم جلد 9 ۳۰ حق الیقین طرح ثابت کر دیتا ہے۔ اول۔ دونوں روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت باہر سے لائی گئی تھی۔ دوم۔ دونوں روایتوں میں ایک ہی مکان کا ذکر ہے جس میں وہ عورت اتاری گئی سوم۔ دونوں روایتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابو اسید کو اس عورت کو لانے اور لے جانے کا کام سپرد ہوا۔ چہارم ۔ دونوں روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس عورت کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے تسکین وہ الفاظ میں کلام کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔ پنجم ۔ دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے اس قول پر اسے علیحدہ کر دیا۔ کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب واقعات ایک ہی شخص سے دو دفعہ گزرے تھے اور کیا صرف اس وجہ سے کہ ایک حدیث میں اس عورت کا نام نہیں آیا ان دونوں روایتوں کو دو واقعوں کے متعلق قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں تمام معتبر شراح اور مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ایک ہی امر کے متعلق ہیں۔ دیکھو قسطلانی و فتح الباری۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ مصنف صاحب ہفوات کی تسلی نہ ہو گی جب تک شیعہ کتب سے ہی یہ ثابت نہ کیا جائے کہ جونیہ بیاہتا بیوی تھیں اور اس غرض کے لئے میں مصنف صاحب ہفوات کو شیعوں کی سب سے معتبر کتاب فروع کافی جلد دوم کا حوالہ دیتا ہوں اس کتاب کے صفحہ ۷۶ اپر كِتَاب النکاح میں باب آخر منہ لکھ کر حسن بصری سے روایت کی ہے کہ جونیہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تھا ۔ اور پھر امام ابو جعفر سے اس کی تصدیق نقل کی ہے بلکہ ان کی زبان سے یہ اعتراض کرایا ہے کہ اس کو اور ایک اور عورت کو حضرت ابو بکر نے نکاح کی اجازت دے دی حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آجانے کی وجہ سے امہات المؤمنین میں شامل تھی۔ اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو جونیہ کو نکاح کی اجازت دینے پر حضرت ابو بکر پر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے ایک ام المؤمنین کو نکاح کی اجازت دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی اور دوسری طرف یہ کہا جائے کہ بخاری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات جو نیہ سے بیان کر کے آپ پر اقدام زنا کا الزام لگایا ہے۔ اگر جو نیہ بیاہتا بیوی نہ تھی تو بقول فروع کافی امام جعفر نے اسے نکاح ثانی کی اجازت دینے پر اعتراض کیوں کیا ہے اور اگر وہ بیاہتا تھی تو اس سے ملاقات کا ذکر اقدام زنا کا التزام کیونکر بن گیا۔ اب کیا امام جعفر کو