انوارالعلوم (جلد 9) — Page 334
انوار العلوم جلد 9 لم الله ۱۴ حق اليقين أُمَيْمَةَ بْنَتَ شَرَاحِيلَ فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَكَأَنَّهَا كَرِمَتْ ذَلِكَ فَأَمَرَ أَبَا سَيْدِ أَنْ يُجَهْزَهَا هَا وَيَكْسُوهَا وَيَكْسُوهَا ثَوْبَيْنِ رَانِ قِيَين - ١٣ رسول كريم اصلی صلى اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا جب وہ آپ کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ اس کو ناپسند کرتی ہے۔ پس آپ نے ابا اسید کو حکم دیا ہے کہ اس وا واپس اس کے وطن پہنچاوے اور دوران ر دو رازقی چادریں اس کو دے دے دے یہ حدیث جیسا کہ اوپر آچکا ہے انہی ابو اسید کی بیان کردہ ہے جنہوں نے پہلی حدیث بیان کی ہے اور یہی ہیں جن کو کپڑے دینے کا حکم ملا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ تھی۔ اس سیاق و سباق کی موجودگی میں مصنف ہفوات کا جونیہ کو ایک اجنبی عورت قرار دے کر اور ایک سر تا پا جھوٹا قصہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر گندے سے گندے اعتراضات کرنا خواہ وہ اعتراضات بظاہر ائمہ حدیث کا نام لے کر ہی کیوں نہ کئے جائیں۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کو اسلام اور بانی اسلام سے محبت نہیں بلکہ عداوت ہے اور یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر حقیقت کو چھپایا ہے نہ کہ نادانی سے واقعات کو نظر انداز کیا ہے۔ میرے نزدیک مصنف ہفوات کے اعتراض کی حقیقت پوری طرح تب بے نقاب ہو گی جب میں جونیہ کا تمام واقعہ تاریخ سے بیان کر دوں۔ طبری ابن سعد اور ابن حجر جیسے زبردست مؤرخین کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسماء یا امیمہ اس کے نام میں اختلاف ہے (مگر میرے نزدیک ہو سکتا ہے کہ اس کے دو نام ہوں۔ ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے دو نام ہوتے ہیں یا تو مختلف رشتہ دار مختلف نام رکھ دیتے ہیں یا بعض لوگ خود ہی بڑی عمر میں اپنے لئے ایک اور نام پسند کر لیتے ہیں اور لوگوں میں وہ ان مختلف ناموں کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں) کندہ قبیلہ سے تھی اور اس نسبت سے کند یہ کہلاتی تھی۔ اس کے والد کا نام اسود ابو الجون تھا۔ اس وجہ سے وہ جو نیہ یا بنت الجون کہلاتی تھی۔ بعض روایات میں اس کو اسود کی پوتی اور نعمان کی بیٹی لکھا ہے۔ لیکن یہ اختلاف بے حقیقت اور اصل مطلب ہے ۔ سے بے تعلق ہے۔ جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو اس کا بھائی نعمان یا بموجب بعض روایات کے اس کا والد نعمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد کے حاضر ہوا اور اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیہ وسلم سے درخواست بھی کر دی کہ میری ہمشیرہ جو پہلے اپنے ایک رشتہ دار سے بیاہی