انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 324

انوار العلوم جلد 9 ۳۲۴ حق الیقین ثبوت میں قول مستحسن کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ عمیر بن حوشب کی روایت ہے کہ جب عائشہ نے حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین کے ساتھ چاور تطہیر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پرے ہٹ جا اس روایت کے متعلق مجھے اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ چادر تطہیر شیعہ محاورہ ہے۔ چادر تطہیر کا ثبوت قرآن کریم سے نہیں ملتا۔ قرآن کریم میں تو ایک وعدہ تطہیر بیان ہوا ہے اس کا کسی چادر کے ساتھ تعلق نہیں۔ شیعان علی نے نہیں کیونکہ وہ نیک اور پارسا لوگ تھے بلکہ بعض شیعان نفسانیت نے اہل بیت کے معنے حقیقت سے پھیرنے کے لئے جو روایات گھڑی ہیں ان میں چادر تطہیر کا ذکر آتا ہے اور ان کی عبارتیں ہی بتاتی ہیں کہ ان سے محض امہات المومنین کی ہتک اور لوگوں کی عقل پر پردہ ڈالنا مقصود ہے۔ قرآن کریم میں صریح طور پر بیویوں کو اہل بیت کہا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ ہود میں ان رسولوں کے ذکر میں جو لوط کی قوم کی ہلاکت کے لئے مبعوث ہوئے تھے حضرت سارہ کو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی تھیں اہل بیت کہہ کر پکارا گیا ہے وہ لوگ حضرت سارہ کو مخاطب کر کے کہتے أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللهِ رَحْمَتُ اللهِ وَبَرَكتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّه یعنی کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے فیصلہ پر تم پر تو اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکات ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً بہت تعریف والا اور بڑی بزرگیوں کا مالک ہے۔ لیکن ان روایات میں صاف الفاظ میں بیویوں کے اہل بیت ؟ ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ پس ان خلاف قرآن روایات کو کون مسلمان تسلیم کر سکتا ہے۔ یہ اقوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہیں۔ بلکہ ان لوگوں کی افترا پردازیاں ہیں جو باوجود سخت وعیدوں کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے سے نہیں جھجکتے تھے۔ مگر جھوٹ چھپ نہیں سکتا۔ اول تو قرآن کریم سے ہی ان کی یہ روایات ٹکرا جاتی ہیں اور اس لئے قابل قبول نہیں۔ دوسرے خود آپس میں یہ روایتیں سخت ٹکراتی ہیں۔ مثلاً یہی واقعہ پندرہ ہیں راویوں سے مذکور ہے اور مختلف روایتوں میں اس قدر سخت اختلاف ہے کہ ان میں تطبیق کی کوئی صورت نہیں۔ حضرت ام سلمہ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی ہے حضرت عائشہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ گویا ان کے گھر نازل ہوئی ہے۔ کسی روایت میں ہے کہ جس وقت آیت تطہیر اتری تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ اور حضرت حسنین اور علی کو ام سلمہ کے گھر میں بلا کر ان کو چادر میں داخل کیا۔ کسی میں ہے