انوارالعلوم (جلد 9) — Page 319
انوار العلوم جلد 9 ۳۱۹ حق الیقین دیا ہوا ہے ) اس آیت میں بھی ایک نبی کی نسبت غضب کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر باوجود اس کے وہ کار نبوت سے معطل نہیں ہوا بلکہ نبی ہے اور نبیوں والا کام کر رہا ہے۔ لوگوں سے ناراض ہے مگر اللہ کی مدد کا کامل بھروسہ رکھتا ہے۔ دنیا کی تنگی کو دیکھ کر بھی یقین رکھتا ہے کہ خدا مجھے نہیں چھوڑے گا اور اس کی امداد کے حصول کے لئے اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس کے لئے الہی رحمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ میں غضب کا لفظ مومنوں کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے اور بصورت مدح استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ سورۃ شوری میں فرمایا ہے۔ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ٥ جب ان کو کسی پر غضب آتا ہے تو اپنے غضب کے نتیجہ میں لوگوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ باوجود غضب کے ان کے رحم کا پہلو غالب رہتا ہے اور وہ دوسروں کے قصوروں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اس جگہ دیکھو مومنون کی تعریف میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ غضب کے وقت سزا سے ہاتھ کھینچے رکھتے ہیں۔ اگر غضب کے معنے کارِ رسالت سے معطل ہونے کے ہوتے تو یہ مؤمن کار مونیت سے کیوں معطل نہ ہو جاتے۔ اس جگہ سے تو معلوم ہو رہا ہے کہ غضب کے باوجود ایک مؤمن کا تعلق ایمان بھی قائم رہتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری اپنے اندر پاتا ہے اور اس کے رحم کو اپنے اندر منعکس کر کے وہ لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔ تو پھر کیا نبیوں کے دل کا ظرف ہی اس قدر تنگ ہے کہ اس میں غضب کے آتے ہی باقی سب حواس وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں اور ان کو پھر دنيا و ما فيها بلکہ خدا اور عقبی کی بھی کچھ فکر نہیں رہتی اور وہ کار نبوت سے معطل ہو جاتے ہیں۔ اس عقل و دانش پر تعجب ہے اور اس علم پر ائمہ پر اعتراض کرنے کی جرأت موجب حیرت ہے۔ اور اس ستم ظریفی پر عقل دنگ ہے کہ آپ بایں علم و فہم لکھتے ہیں کہ ان ہفوات کو عقل انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔ تیسری روایت مصنف ہفوات نے اس امر کی سند میں کہ ائمہ حدیث کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا بخاری کتاب النکاح سے نقل کی ہے۔ یہ روایت در حقیقت اس واقع کے متعلق ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے اس لئے واقع کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں سے یہ الفاظ نقل کر کے مصنف ہفوات نے اعتراض کیا ہے ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا لَا يَفْرَنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى