انوارالعلوم (جلد 9) — Page 304
انوار العلوم جلد و ۳۰۴ حق الیقین کرتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بو کو لوگوں کے لئے مغیرہ قرار دیا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ نے جمعہ کے دن بوجہ اجتماع کے خوشبو کے استعمال کا حکم دیا۔ غرض کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ایک یہ بات تھی کہ آپ نے جگہ کی پاکیزگی کے علاوہ جو مختلف مذاہب میں ضروری سمجھی جاتی تھی شخصی صفائی کو بھی ضروری قرار دیا اور اسی مضمون کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ بعض لوگ افراط کا پہلو اختیار کر لیتے ہیں اس لئے فرما دیا وَ جُعِلَتْ قُرَّةٌ عَيْنِي فِي الصَّلوة یعنی میری اصل راحت نماز میں ہی رکھی گئی ہے۔ پس چاہئے کہ میرے ان احکام کو دیکھ کر عورتوں سے نیک سلوک ہونا چاہئے اور خوشبو کا استعمال کرنا چاہئے کوئی شخص یہ غلط مفہوم نہ لے لے کہ بس عورتوں کی رضا میں لگا ر ہے اور ظاہری صفائی میں ہی لگا رہے بلکہ چاہئے کہ عورتوں سے حسن سلوک بھی کرو اور ظاہری پاکیزگی کا بھی خیال رکھو لیکن اصل لذت تم کو اللہ تعالی ہی کی یاد میں حاصل ہو۔ مصنف صاحب ہفوات ان معنوں پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا یہ حدیث احکاک اور احراق کے قابل ہے یا اس قابل ہے کہ اس کو دشمنوں کے سامنے اسلام کی خوبیوں کے اظہار اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے لئے پیش کیا جائے ان کو چاہئے کہ جب وہ کسی حدیث کے معنی کرنے لگیں تو یہ دیکھ لیا کریں کہ وہ ان کی نسبت نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے اور اس کے اندر ان کے خیالات کا اظہار نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات کا اظہار ہے اور اپنے خیالات اور جذبات کے مطابق اس کا ترجمہ نہ کیا کریں۔ اگر اس حدیث میں نساء کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے بیویاں کیا جائے تب اس حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں اور خوشبو کی طرف میری رغبت جبراً کی ہے ورنہ میری لذت تو نماز ہی میں ہے اور یہ معنی بھی صحیح ہیں۔ اگر اسلام میں رہبانیت کو روکا نہ جاتا اور اس کی اجازت دی جاتی تو اغلب تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امور خانہ داری میں پڑنے کی بجائے اپنے اوقات کو ذکر الہی میں ہی صرف کرتے۔ مگر چونکہ اللہ تعالٰی نے اس کام کو ذکر الہی کا جزو قرار یا ہے اور خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو بہت سی بیویوں کا ہونا ضروری تھا تا کہ وہ عملاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طریق معاشرت کو سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبیب بصیغہ مجهول فرمایا ہے اُحِبُّ بصیغہ معروف