انوارالعلوم (جلد 9) — Page 299
انوار العلوم جلد 9 ۲۹۹ حق اليقين خلاصہ یہ کہ قرآن کریم سے تین قسم کی محبتوں کا ثبوت ملتا ہے۔ ایک وہ محبت جو بڑی ہوتی ہے۔ دوسری وہ جو طبعی ہوتی ہے۔ نہ اچھی نہ بڑی۔ تیسری وہ جو موجب ثواب ہوتی ہے اور اس کا کرنے والا اللہ تعالی کا محبوب ہوتا ہے کیونکہ وہ طفیلی محبت ہوتی ہے اور خدا کی محبت کا نتیجہ ہوتی ہے پس وہ غیر کی محبت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالی کی ہی محبت ہوتی ہے اور اس کے حکم اور اس کی رضا کے ماتحت ہوتی ہے۔ اس تیسری قسم کی محبت کا کسی اعلیٰ سے اعلیٰ انسان میں بھی پایا جانا اس کی شان کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا نہ پایا جانا اس کی شان کے خلاف ہے کیونکہ اس کی محبت کی کمی کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کی محبت اللہ تعالٰی ہے ایسی بڑھی ہوئی نہیں کہ وہ اس کی خاطر دوسروں سے بھی محبت کر سکے۔ یہ محبت جس قدر بھی کوئی اعلیٰ مرتبہ کا انسان ہو اسی قدر اس میں زیادہ پائی جائے گی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اگر یہ بیان کیا جائے کہ آپ اپنی عورتوں سے محبت محبت کرتے تھے تو یہ ہرگز آپ کی شان کے گھٹانے وا گھٹانے والی بات نہیں ہے آپ کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی منشاء کے بالکل مطابق تھا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَ مِنْ آيَتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ انْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ آن ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی قسم کے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف مائل ہو کر تسلی پکڑو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت کا سلسلہ بنایا ہے اس میں ان لوگ ان لوگوں کے لئے نشان ہیں جو اپنے نفوس میں غور کرنے کے عادی ہیں۔ مصنف ہفوات اگر اپنے نفس میں غور کرنے کے عادی ہوتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ عورت و مرد کا تعلق صرف شہوات کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر ) تعالٰی نے بہت سی حکمتیں رکھی ہیں۔ مگر ہر شخص اپنے اوپر دوسروں کی حالت کا بھی قیاس کر لیتا ہے۔ اللہ علاوہ ازیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ازواج مطہرہ کو ایک عظیم الشان نعمت قرار دیا ہے اور جنت میں مؤمن مرد کے پاس اس کی مؤمن بیوی کو رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے اور مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے قرۃ مین بننے کی دعا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالی کے حکم اور اس کے منشاء کے مطابق پاک بیویوں کو ایک نعمت سمجھتا اور ان کی قدر کرنا اور ان سے محبت کرنا ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اور نیکی کا وجود نیکوں کی شان کو بڑھاتا ہے نہ کہ گھٹاتا ہے