انوارالعلوم (جلد 9) — Page 293
انوار العلوم جلد 9 ۲۹۳ حق الیقین کی تبلیغ نہ کریں۔ میرا طریق عمل میرے قول سے زیادہ اس خیال کو رد کر رہا ہے کیونکہ تبلیغی لحاظ سے اس جماعت نے کہ جس کا امیر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بنایا ہوا ہے تمام دنیا میں اپنی تبلیغی کوششوں کے ذریعہ سے حیرت انگیز حرکت پیدا کر رکھی ہے۔ بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ اپنے اپنے محاسن اور خوبیاں بیان کی جائیں اور دوسروں پر بلاوجہ اور بلا ان کی طرف سے حملہ ہونے کے حملہ نہ کیا جائے۔ اور اس حدیث کو یاد رکھا جائے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَ يَسُبُّ اللَّهُ فَيَسُبُّ الله کی فرمایا: بڑے گناہوں میں سے ایک اپنے ماں باپ کو گالیاں دینا بھی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالیاں دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں کسی کے باپ کو گالیاں دیتا ہے پھر وہ اس کے باپ کو گالیاں دیتا ہے۔ یا کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے پھر وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ یعنی دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دے کر اپنے ماں باپ کو گالیاں دلوانا ایسا ہی ہے جیسا اپنے ماں باپ کو خود گالیاں دے لیتا۔ جن لوگوں کو کوئی قوم اپنے روحانی ہادیوں میں سمجھتی ہے ان کی عزت اپنے ماں باپ سے زیادہ کرتی ہے ان کی نسبت بلا وجہ گندے الفاظ استعمال کرنے کا لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ اس کے بزرگوں کو گالیاں دیں اور اس صورت میں اکسانے والا ہی اپنے بزرگوں کو گالیاں دینے والا سمجھا جائے گا۔ خصوصاً جب صورت ایسی ہو کہ ایک قوم کے بزرگ دوسری قوم کے نزدیک بھی بزرگ ہوں شب تو اس دوسری قوم کے بزرگوں کو گالیاں دینا نہ صرف بڑا ہے بلکہ حد درجہ کی کمینگی کا مظہر ہے کیونکہ ایسا شخص اس امر سے کہ دوسری قوم کے لوگ اس کے بزرگوں کو بھی اپنا بزرگ خیال کرتے ہیں اور اس کی سختی کا سختی سے جواب نہیں دے سکتے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور بارہا دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس کے بزرگوں کو اپنا بزرگ خیال کرتے تھے وہ اپنی ناشائستہ حرکت سے ایسا مجبور کر دیتا ہے کہ ان میں سے بعض بطور بدلے کے ان بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں اور یہ شخص ایک دوست کو دشمن بنانے کا عذاب مزید براں اپنے اوپر نازل کر لیتا ہے۔ غرض سب و شتم ایک قبیح فعل ہے اور دوسروں کے بزرگوں کو گالیاں دینے والا سخت محرم ہے اور اگر اس کی زیادتی کے سبب سے دوسری قوم کے لوگ بھی اپنی زبان کھولیں تو اس کا الزام ان پر نہیں بلکہ اس گالیاں دینے والے کے ذمہ ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ اہل شیعہ کے شرفاء اور رؤساء مصنف کی بد کلامیوں اور بلا وجہ کی چھیڑ چھاڑ کو اسی طرح بڑا سمجھیں گے جس طرح کہ