انوارالعلوم (جلد 9) — Page 291
انوار العلوم جلد 9 ۲۹۱ حق اليقين ڈالے ہوئے ہو تمام صداقتیں باطل ہو سکتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لوگ پچھلی چند صدیوں میں جب کہ شرک کا دور دورہ تھا تمام ایسی احادیث کتب حدیث سے نکال کر پھینک دیتے جن میں شرک کا رد ہے بلکہ بعض لوگوں کے اس خیال پر عمل کرکے کہ قرآن کریم میں بھی کچھ زیادتی ہو گئی ہے جس قدر آیات شرک اور رسوم اور بدعات کے خلاف دیکھتے ان کو نکال دیتے تو نتیجہ کیا ہوتا؟ اسلام کا کیا باقی رہ جاتا۔ وہ لوگ دیانتداری سے اپنے عقیدہ کے مطابق کام کرتے لیکن اس کا نتیجہ حق اور راستی کے خلاف کینا خطرناک ہوتا۔ اس زمانہ میں تعلیم یافتہ لوگ کثرت ازدواج، طلاق اور پردہ کو اپنی عقل کے مطابق تہذیب و شائستگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا ان کا اختیار ہونا چاہئے کہ وہ قرآن وحدیث سے ایسے تمام مضامین کو یہ کہہ کر نکال ڈالیں کہ ایسی باتیں خدا اور رسول کب کہہ سکتے تھے نتیجہ یہ ہوتا کہ چند دنوں کے بعد جس کے آثار ابھی سے شروع ہو گئے ہیں جب دنیا کو معلوم ہوتا کہ یہی طریق مناسب تھا تو وہ ان احکاک شدہ اور احراق شدہ آیتوں اور حدیثوں کو قرآن کریم میں نہ پاکر اس کو ایک نامکمل اور بے معنی کتاب سمجھتے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ تمام عالم اسلام اس مرض میں مبتلا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔ اگر وہ لوگ تمام آیات قرآنیہ اور احادیث کو جو ان کی وفات پر دلالت کرتی ہیں نکال دیتے کہ ایسا خلاف واقعہ امر قرآن اور حدیث میں کہاں سے آسکتا تھا ضرور کسی مفسد نے پیچھے سے ملا دیا ہے تو کیا دنیا ایک صداقت سے اور اسلام ایک خوبی سے محروم نہ وہ جاتا؟ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور لوگوں کے نقطہ نگاہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک بات جو بالکل خلاف تہذیب سمجھی جاتی ہے دوسرے وقت میں عقل و علم کی ترقی کے ساتھ وہی معقول اور مفید ثابت ہو جاتی ہے یا کبھی اس کے خلاف ایک وقت میں ایک بات اچھی سمجھی جا کر دوسرے وقت میں بڑی خیال کی جانے لگتی ہے۔ اگر مصنف ہفوات کے مجوزہ طریق انکاک و احراق پر کیا عمل کیا جائے تو ہزاروں صداقتیں جہالت اور فترة کے زمانہ میں منادی جائیں۔ اور سچے مذہب کے پیرؤوں کو تحقیق و تدقیق کے زمانہ میں دوسرے مذہب کے پیرووں کے سامنے منہ دکھانے کی گنجائش نہ رہے۔ اس وقت جو پچھلے لوگوں کی تحقیق کی بعض غلطیاں معلوم ہوتی ہیں تو کیا اسی سبب سے نہیں کہ انہوں نے دیانتداری سے اپنے فہم کے خلاف خیالات کو باقی رہنے دیا بلکہ خود محفوظ کر دیا تاکہ تحقیق کا دروازہ بند نہ ہو جائے۔ اگر وہ لوگ بھی اس احکاک اور احراق کے طریق کو اختیار کرتے تو آج ہمارے لئے صداقت کے معلوم کرنے کا کون سا راستہ کھلا رہ جاتا؟