انوارالعلوم (جلد 9) — Page 288
انوار العلوم جلد و ۲۸۸ حق اليقين ساتھ حالات جمع کئے گئے ہیں اور جس میں تاریخ سے بڑھ کر یہ جدت ہے کہ بجائے اپنے الفاظ کے خود راوی کے الفاظ یا متکلم کے ا متکلم کے الفاظ کو بیان کرنے کی حیرت انگیز حد تک کامیاب کوشش کی گئی ہے انہوں نے تیار نہیں کر دی؟ پھر اس بے نظیر کوشش کے صلہ میں کیا ان کو وہی انعام ملنا چاہئے جو مصنف کتاب نے ان کو دینا چاہا ہے۔ اور جس عطیہ پر صداقت اور احسان شناسی باآواز بلند عطائے تو بلقائے تو " کے مقولہ سے اسے مخاطب کر رہی ہیں۔ وہ کونسا علم تھا جسے علم حدیث کے رواج سے نقصان پہنچا، یا وہ کونسی تحقیق تھی جو اس علم کی ایجاد کے بعد رک گئی۔ اگر اس علم سے کوئی نقصان لوگوں کو پہنچا ہے تو اور کونسا علم ہے جس کا غلط استعمال لوگ نہیں کر لیتے۔ اگر علم حدیث کو بعض لوگوں نے تدبیر فی القرآن میں روک بنا لیا ہے تو بعض دوسروں نے تدبر فی القرآن کو فہم رسول پر اپنے فہموں کو مقدم کرنے کا مترادف بنا دیا ہے۔ پس لوگوں کے غلط استعمال سے ان ہزاروں فوائد پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا جو اس کے علم کے ذریعہ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں اور جو فوائد کہ اہل علم لوگوں نے ہمیشہ حاصل کئے ہیں اور جن کو وہ حاصل کر رہے ہیں۔ باوجود موضوعات کے ایک انبار کے صحیح روایات کا ایک ایسا مجموعہ موجود ہو گیا ہے جس میں ہزاروں ڈر بے بہا ملتے ہیں بے شک ان میں کانٹے بھی ہیں لیکن کانٹوں کی موجودگی سے گلاب کے پھول کی قدر میں کمی نہیں آجاتی۔ کون کہتا ہے کہ تم کانٹے اپنے جسم میں چھو لو، باغبان نے گلاب کا درخت لگایا ہے اس میں کانٹے ضرور لگیں گے تم اس میں سے پھول چنو اور ان کو استعمال کرو۔ روایتیں جمع کرنے والوں نے روایات جمع کر دی ہیں ان کی تحقیقات میں تین وجوہ سے صداقت سے دور روایات شامل ہو سکتی ہیں۔ (۱) یا تو اس وجہ سے کہ ان کی تحقیقات ناقص رہ گئی اور ایک جھوٹا سچا بن کر ان کو کوئی بات بتا گیا۔ (۲) یا اس طرح کہ انہوں نے بھی دیانتداری سے کام لیا اور دوسرے نے بھی لیکن بشریت کے اثر سے غلط فہمی کے ماتحت کوئی بات اس طرح بیان کی گئی جس طرح پہلے راوی نے بیان نہ کی تھی یا جس طرح اصل واقعہ نہ ہوا تھا۔ (۳) یا یہ کہ انہوں نے اس خیال سے ان روایتوں کو نقل کر دیا جو ان کے نزدیک بھی کمزور تھیں تا دونوں قسم کے خیالات کو پہنچا دیں تاکہ لوگوں میں تحقیق اور تدقیق کا ملکہ پیدا ہو اور تاکہ وہ لوگوں کے دلوں پر اپنے اپنے خیالات کے جبریہ عکس ڈالنے کے مرتکب نہ ہوں۔ اول الذکر سے پوری طرح بچ جاتا تو انسانی طاقت سے بالکل بالا ہے اور آخر الذکر سے اگر بعض نقصانات بھی پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعض